جہادیوں کے حملے اور ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یہ تحقیق بی بی سی اور انتہا پسندی پر کام کرنے والے بین القوامی ادارے، آئی سی آر ایس کے تعاون سے مکمل کی گئی ہے۔

اس تحقیق کا مقصد کیا ہے؟

اس منصوبے کا مقصد یہ اندازہ لگانا تھا کہ دنیا کے کن کن علاقوں میں کس پیمانے پرجہادی گروہ، نیٹ ورکس اور افراد کی وجہ سے لوگوں کی اموات ہوئیں، چنانچہ یہ تحقیق انفرادی سطح پر ہونے والے واقعات کی نہیں۔

اگرچہ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ جدید جہادیت یک رخی نہیں مگر پھر بھی یہ ایک رجہان ہے۔ ہم آج کے عالمی جہاد کی ایک تصویر کشی کرنا چاہتے تھے۔

آپ جہاد کی تعریف کیا کرتے ہیں؟

ہم جہادیت کی تعریف ایک جدید انقلابی سیاسی نظریے کے طور پر کرتے ہیں جو سنی اسلام کے ایک خاص اور تنگ نظر تصور کے فروغ کے لیے تشدد کا استعمال کرتا ہے۔

وضاحت:

جہاد ایک اسلامی نظریہ ہے جس کا معنی ’کوشش‘ کے ہیں اور اس کے دونوں مفہوم ہیں، عسکری بھی اور روحانی بھی۔

جہادیت کی اصطلاح ایک سیاسی نظریے کی جانب اشارہ کرتی ہے اور اگرچہ بہت سے شیعہ گروہ اور افراد خود کو جہادی کہلواتے ہیں ، اس تحقیق میں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار خاص طور پر القاعدہ کی تحریک اور اس کے اتحادیوں اور اس جیسا فلسفہ رکھنے والوں پر مرکوز ہیں۔

یہ جہادی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اسلام مغرب، اسرائیل، بے دین اسلامی حکمرانوں اور اہل تشیع کی جانب سے خطرے کی زد میں ہے اور ہر مسلمان کو اسلام کے دفاع کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔

جو چیز جہادیوں کو ان دیگر گروہوں اور افراد سے الگ کرتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ جہادی اپنے نظریے اور طویل المدتی سیاسی تصور میں تشدد کو جائز قرار دیتے ہیں۔

جہادیت کا مقصد ایسی اسلامی ریاست یا معاشرے کو قائم کرنا ہے جسے نہایت تنگ نظر، کٹر اور انتھاپسند سنی اسلام (جو سلفی اور وہابیت کے نام سے بھی معروف ہے) کے طریقے پر چلایا جائے۔

سلفی نظریہ جہادیوں کو یہ سکھاتا ہے کہ دیگر فرقوں اور مذاہب کی جانب ان کا رویہ جارحانہ ہونا چاہیے اور وہ انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین اور جمہوریت کو مسترد کریں۔ ان کی جانب سے عوامی اخلاقیات کو بزور طاقت نافذ کیا جاتا ہے۔

پاکستان اور افغانستان میں طالبان جیسے بہت سے گروہ سلفی یاوہابی نپیں، بلکہ وہ زیادہ تر دیوبندی یا اہل حدیث کی روایت پر چلتے ہیں۔

یہ ’لفظ پرستی‘ پر زور دینے میں سلفیت سے مماثلت رکھتے ہیں اور کم وپیش ایک دوسرے کے متوازی ہیں۔ اس کا مطالعہ کرنے کے لیے ہم نے انھیں جہادی گروہوں میں تقسیم کیا ہے۔

اوپر بیان کیے جانے والے چند اعتقادات کو کئی دیگر مسلمان پسند نہیں کرتے اور انھیں قابل گرفت سمجھتے ہیں، مثلاً دنیا بھر میں سلفی اسلام کے ماننے والوں کی تعداد بہت کم ہے اور سلفیوں میں بھی بہت کم ایسے ہیں جو جہادی ہیں۔

جہادی عموماً اسلام اور اس کے تصور کی ترجمانی نہیں کرتے، اور ان کے خیالات اور طریقوں کو مسملمانوں کی ایک کثیر تعداد مسترد کرتی ہے۔

جہادی گروہ کی تعریف کیا ہے؟

یہ تحقیق اس مفروضے پر کی گئی ہے کہ نامعلوم نیٹ ورکس اور افراد کی جانب سے کیے جانے والے پرتششد واقعات کے ذمہ دار زیادہ تر ایسے گروہ ہیں جنھیں ہم جہادی کہ سکتے ہیں۔

اس لیے کہنا درست ہوگا کہ یہ تحقیق اسلام سے منسلک کیے جانے والے تمام پر تشدد واقعات سے متعلق نہیں ہے۔ ہمارا مقصد وہ تمام مواد تیار کرنا ہے جس میں اپنی توجہ ایک خاص قسم کے پرتشدد واقعات پر مرکوز رکھنا ہے جس میں القاعدہ اس کے حامیوں کے نظریات کارفرما نظر آتے ہیں۔

کیا آپ کے پاس جہادی گروہوں کی فہرست موجود ہے؟

ہم نے نومبر کے مہینے میں ہونے والی ہلاکتوں کے ذمے دار گروہوں کی فہرست شائع کی ہے۔ ہم نے دنیا بھر میں موجود تمام جہادی گروہوں کی فہرست شائع نہیں کی کیونکہ ایسی کوئی بھی فہرست بنانا ممکن نہیں کیونکہ جہاد پسندی یا جہادیت ایک سماجی تحریک ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تعلق ہمیشہ نہ تو رسمی ہوتا ہے اور نہ اس پر عمل پیرا ہونےوالوں نے کسی قسم کے ممبرشپ کارڈ اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔

ان گروپوں کے علاوہ بہت سے نیٹ ورکس ہوتے ہیں اورغیرمنسلک افراد بھی ہوتے ہیں( خصوصاً یورپ میں) جو بغیر کسی گروہ سے وابستہ ہوئے اس تحریک کا حصہ ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر مراکش میں سلفی جہادی گروہ ایک رسمی گروہ نہیں تاہم یہ افراد کا ایک نیٹ ورک ہے جسے مراکش کے میڈیا اور حکام نے ’سلفیا جہادیہ ‘ کا نام دے رکھا ہے۔

کیا اعداد وشمار صرف نومبر سے متعلق ہیں یا یہ کسی رجحان کی نمائندگی کرتے ہیں؟

اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک میہنہ محدود وقت ہوتا ہے لیکن اس تحقیق کے لیے مہیا وسائل ہمیں اس سے زیادہ تحقیق کی اجازت نہیں دیتے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ان اعداد وشمار میں آپ کو یہ معلبم نہیں ہوگا کہ جہادیوں کے ہاتھوں ہونے والا تشدد کہاں تک پھیلا ہوا ہے اور یہ کتنے عرصے سے جاری ہے۔

ہم یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ نومبر 2014 کے اعداد وشمار کا جائزہ اگر کچھ ماہ بعد دوبارہ کیا جائے تو وہ مختلف ہو سکتا ہے۔

اعداد وشمار کس قدر درست ہیں؟

ہم تسلیم کرتے ہیں کہ اس مواد کو اکھٹا کرنے میں تحقیقی ٹیم کو کئی مسائل کا سامنا رہا، خاص طور پر متاثرہ علاقوں میں خانہ جنگی کے حوالے نے اس تحقیق کو بہت متاثر کیا۔ اس کے علاوہ ان واقعات کی رپورٹنگ میں تاخیر اور رپورٹر کی جانبداری کو بھی خارج از امکان نہیں قرار دیا جا سکتا۔ کئی مقامات پر مواد اکھٹا کرنا خطرناک بھی ہو سکتا ہے اور بہت سے ایسے واقعات بھی ہوسکتے ہیں جو خبروں میں نہیں آئے۔