سی آئی اے کے ہتھکنڈوں کا دفاع

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس رپورٹ سے امریکہ میں بحث چھڑ گئی ہے

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے سی آئی اے کی طرف سے تفتیش کے دوران قیدیوں کو جسمانی اور ذہنی اذیت دینے کے طریقے استعمال کرنے کے بارے میں سینیٹ کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد اپنے ادارے کا دفاع کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ تفتیش کے کچھ طریقے ’قابلِ نفرت‘ اور ’ناجائز‘ تھے کیونکہ کچھ اہلکاروں نے اس بارے میں ہدایات کو نظر انداز کیا تھا۔

لیکن ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کا جو پروگرام 11 ستمبر کے حملوں کے بعد اپنایا گیا اس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوئے اور لوگوں کی جانیں محفوظ بنانے میں مدد ملی۔

سینیٹ کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’واٹر بورڈنگ‘ اور نیند پوری نہ ہونے دینے کے ’ظالمانہ‘ طریقوں سے ایسی کوئی معلومات حاصل نہیں کی جا سکیں جن سے لوگوں کی زندگیاں بچائی جانے میں مدد ملی اور سی آئی اے نے اس بارے میں سیاست دانوں کو گمراہ کیا، اور سابق امریکی صدر جارج بش کی انتظامیہ نے سی آئی اے کے بیانات پر بھروسہ کیا۔

سابق نائب صدر ڈکی چینی نے امریکی ٹی وی چینل فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ میں بڑے نقائص ہیں۔

ڈک چینی نے کہا کہ سی آئی اے کے پروگرام کے بارے میں بش کو جو کچھ علم ہونا چاہیے تھا انھیں معلوم تھا اور رپورٹ بالکل ’ردّی اور بکواس‘ ہے۔

جان برینن کے سابق افسر رپورٹ کے سامنے آنے سے پہلے ہی اس کے خلاف چلائی جانے والی تنقیدی مہم میں سب سے آگے تھے۔

انھوں نے سی این این کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ’ہماری خوش قسمتی تھی کہ سی آئی اے میں ایسے مرد اور خواتین موجود تھے جنھوں نے تن دہی سے ہمارے لیے کام کیا۔‘

سی آئی اے کے موجود ڈائریکٹر جان برینن نے کہا کہ اس بات کا تعین کرنا ناممکن ہے کہ تفتیش کے طریقۂ کار کی وجہ سے قیدیوں نے اہم معلومات فراہم کیں یا نہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ان طریقوں سے کیا نتائج حاصل ہوئے، نہ ان کا علم ہے اور نہ یہ معلوم کیے جا سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینیٹ کی انٹیلی جنس ایجنسی کی چیئرپرسن ڈینی فائن سٹائن نے سی آئی اے کے بارے میں رپورٹ جاری کی تھی

برینن نے اعتراف کیا کہ کچھ کیسوں میں ’ناجائز اور قابل نفرت‘ طریقے استعمال کیےگئے لیکن انھوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سی آئی اے نے بہت سے اچھے کام بھی کیے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب بہت سی چیزوں کے آسان جوابات موجود نہیں تھے۔

برینن نے سی آئی اے کے ہیڈکواٹر لینگلی ورجینیا میں پریس کانفرنس کے شروع میں 11 ستمبر سنہ 2001 کے دہشت گرد حملوں کی ہولناک یادوں کو دہرایا اور امریکہ میں ایک ایسے کسی اور حملے کو ناکام بنانے کے بارے میں سی آئی اے کے عزم کی بات کی۔ انھوں نے یاد دلایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان میں سب سے پہلے مرنے والے سی آئی اے کے اہلکار ہی تھے۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر اور ایجنسی کے کئی سابق اہلکاروں کی طرف سے سینیٹ کی رپورٹ کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا مقصد اس رپورٹ کے مندرجات کو بے وقعت ثابت کرنا ہے کیونکہ تشویش یہ ہے کہ تاریخ میں سی آئی اے کے اہلکاروں کو حب الوطنوں کے بجائے جلادوں کے طور پر یاد کیا جائے گا اور ان کے خلاف دنیا میں قانونی کارروائی بھی ہونا بھی بعید از قیاس نہیں۔

سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کی رپورٹ میں ان تمام غلط اقدامات کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی کوئی بات نہیں کی گئی اور نہ ہی امریکہ کے محمکۂ انصاف کو تحقیقات شروع کرنے میں کوئی دلچسپی ہے۔

لیکن سابق تفتیشی اہلکاروں اور ان کے افسران کو خطرہ لاحق ہے کیونکہ اقوام متحدہ کے خصوصی تحقیق کار نے مطالبہ کیا ہے کہ ’منظم جرائم‘ کے ذمہ داران کو قانون کے سامنے پیش کیا جائے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں بش انتظامیہ اور سی آئی اے کے اعلیٰ اہلکاروں کے بیرون ملک سفر کے دوران ان کی گرفتاریوں کے مطالبے پر زور دے رہی ہیں۔

سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹروں جارج ٹینٹ، پوٹر گوس اور مائیکل ہیڈن نے امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل میں ایک مضمون میں لکھا ہے کہ سینیٹ کی رپورٹ یک طرفہ، غلط حقائق اور ان کی غلط تشریح سے بھرپور ہے، ناقص طریقے سے لکھی گئی اور ایجنسی پر یکہ طرفہ حملہ ہے جس نے اس امریکہ کو بچانے کے لیے سب سے زیادہ خدمات انجام دی ہیں۔

اسی بارے میں