دس چیزیں جن سے ہم گذشتہ ہفتے لاعلم تھے

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹام ہینکس کا شمار ہالی وڈ کے بہترین اداکاروں میں کیا جاتا ہے

1۔ سنہ 2009 میں ایک امریکی ادارے نے کیوبا کی حکومت کے خاتمے میں مدد کے لیے ایک ریپر یا ریپ گلوکار کی مدد لی تھی۔

مزید جاننے کے لیے پڑھیے (واشنگٹن پوسٹ)

2۔ ہالی وڈ اداکار ٹام ہینکس ہوٹل میں کمرہ لیتے ہوئے سکاٹش گلوکار ہیری لاڈر کا نام استعمال کرتے ہیں۔

مزید جاننے کے لیے پڑھیے (گارڈین)

3۔ فرانسیس علاقے بریٹنی میں پکڑے جانے والے سکیلپس یا خوردنی صدفے پہلے صفائی کے لیے چین بھیجے جاتے ہیں جہاں سے واپس انھیں فرانس لا کر فروخت کیا جاتا ہے۔

مزید جاننے کے لیے پڑھیے (لوکل)

4۔ ڈراون ایواڈز کے انفرادی فاتحین میں سے 88 فیصد سے زیادہ مرد ہیں۔

مزید جاننے کے لیے پڑھیے (بی ایم جی)

5۔انٹارکٹک میں پائے جانے والے سمندری خارپشت ماحولیاتی تبدیلیوں سے متاثر نہیں ہو رہے۔

مزید جاننے کے لیے پڑھیے (برطانوی انٹارکٹک سروے)

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption چیلسی کے مینیجر ہوزے مورینہو آہنی پنجرے میں بند ہو کر شارک مچھلیوں کے ساتھی تیراکی کے شوقین ہیں

6۔ رومن کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ کے خیال میں جانور جنت میں جاتے ہیں۔

مزید جاننے کے لیے پڑھیے (نیویارک ٹائمز)

7۔ 1980 کی دہائی میں ایک وقت ایسا بھی تھا جب برطانیہ میں پائی جانے والی 75 فیصد موٹر سائیکلیں ایک ہی کمپنی کی بنی ہوئی تھیں۔

مزید جاننے کے لیے پڑھیے (فنانشل ٹائمز)

8۔ اداکارہ ہیل بیری اور گلوکارہ اڈیل دونوں آن لائن ڈیٹنگ کے ذریعے ساتھی ڈھونڈنے کی کوشش کر چکی ہیں۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

9۔ جرمنی میں بہت کم افراد پہلی جنگ عظیم میں کرسمس کی جنگ بندی کے بارے میں جانتے ہیں۔

مزید جاننے کے لیے کلک کریں

10۔ انگلش فٹبال کلب چیلسی کے مینیجر ہوزے مورینہو آہنی پنجرے میں بند ہو کر شارک مچھلیوں کے ساتھی تیراکی کے شوقین ہیں۔

مزید جاننے کے لیے پڑھیے (ساؤتھ چائنا مورننگ پوسٹ)

اسی بارے میں