یہودی ریاست بحرین کے قریب صحرا میں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تاریخ بتاتی ہے کہ کم از کم سنہ 1625 تک یہودی مسقط میں رہ رہے تھے

ہو سکتا ہے یہودیوں کی جائے پیدائش مشرق وسطیٰ ہی ہوں لیکن وہ مشرق وسطیٰ میں آباد ہونے سے صدیوں پہلے دور دراز علاقوں تک پھیلے ہوئے تھے اور خلیج فارس میں بھی ان کی موجودگی صدیوں پرانی ہے۔

خلیج فارس میں اب یہودیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، سوائے ایران کے جہاں اب بھی یہودی آباد ہیں، لیکن مصنف میتھیو ٹیلر کہتے ہیں کہ اس علاقے میں یہودیوں کی اتنی تعداد ضرور تھی کہ آج سے محض ایک صدی پہلے تک یہ تجویز پیش کی گئی تھی کہ یہودی ریاست بحرین کے قریب صحرا میں ایک بڑے نخلستان کے ارد گرد قائم کی جائے۔

سنہ 1859 میں برطانوی بحریہ کے ایک سینیئر افسر گرفتھ جینکن نے اپنے ماتحت کو ایک خط لکھا جس کا نام ہِسکل تھا۔

ہسکل بن یوسف یا یہزگل بن یوسف نامی یہ شخص ایک چھوٹے درجے کا اہلکار تھا جو مسقط میں برطانیہ کے مفادات کو دیکھ رہا تھا۔سنہ 1940 میں یہاں تعینات اپنے پیشرو کے طرح ہسکل بن یوسف بھی یہودی تھے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ کم از کم سنہ 1625 تک یہودی مسقط میں رہ رہے تھے۔ ایک سیاح نے سنہ 1673 میں لکھا کہ اس نے مسقط میں ایک نئی یہودی عبادت گاہ تعمیر ہوتے دیکھی۔ اس کے علاوہ سنہ 1830 میں جب ایک برطانوی فوجی افسر جیمز ویلسٹیڈ نے یہاں کا دورہ کیا تو انھوں نے بھی یہاں ایک یہودی بستی کی موجودگی کے بارے میں خاص طور پر ذکر کیا۔

گرفتھ جینکن نے اپنے خط میں آڑھے ترچھے االفاظ میں عمان کے اندرونی علاقوں کے حکمران ’امام‘ کا بھی ذکر کیا اور اس کے علاوہ یہ بھی لکھا کہ ایران سے ’کوئی اہم شخص‘ یہاں آیا ہوا ہے۔

گرفتھ جینکن نے اپنے خط کے اختتام میں ہِسکل کو ہدایت کی کہ اس سارے معاملے کی تفصیلی وہ ایک الگ غیر سرکاری جوابی خط میں بیان کرے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ گرفتھ جینکن نے اپنے اس خط کا عبرانی میں ترجمہ کروا کے بھیجا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

یہ خط برٹش لائبریری سے منسلک نوادرات کے ماہر ڈینئل لوو حال ہی میں منظر عام پر لائے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ یہ دیکھ کر بہت حیران ہیں کہ آخر گرفتھ جینکن نے اس خط کا عبرانی ترجمہ کروانا کیوں ضروری سمجھا۔ ڈینئل کا کہنا ہے کہ ان دنوں روز مرہ کی زبان عربی تھی، اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہے ہسکل انگریزی بھی جانتے تھے، پھر جینکن نے خط و کتابت میں عبرانی کا سہارا کیوں لیا۔

ڈینیئل لوو کا خیال ہے کہ جینکن خفیہ پیغامات کے لیے عبرانی استعمال کر رہے تھے تاکہ پیغام رساں یہ خط نہ پڑھ سکے بلکہ اس بھی اہم یہ تھا کہ امام کو اس خفیہ خط کا نہ پتہ چلے اور امام سے بڑھ کر ’ایران سے آئے شخص‘ کو بھی اس کی خبر نہیں ہونی چاہیے تھی۔

یہ خط کا معاملہ اگرچہ ابھی تک ایک معمہ ہے، لیکن اس بات میں بہرحال کوئی شک نہیں کہ اس زمانے میں یہودی عرب بھر میں موجود تھے۔

ہمیں قرآن میں بھی ساتویں صدی میں مدینہ اور اس کے گرد و نواح میں یہودیوں کی موجودگی کا ذکر ملتا ہے۔

اس کے علاوہ قرون وسطیٰ کے مشہور سیاح بنیامین جب سنہ 1170 کے لگ بھگ یہاں سے گزرے تو انھوں نے بھی یہی دیکھا کہ ایران، عراق، سعودی عرب اور خلیج فارس کے دونوں کناروں یعنی ایران میں کِش کے مقام پر اور سعودی عرب میں قطیف کے قصبے میں یہودیوں کی آبادیاں موجود تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

جہاں تک بغداد کا تعلق ہے تو یہاں چھٹی صدی عیسوی میں بھی یہودی رہائش پذیر تھے۔ پہلی جنگِ عظیم کے وقت سرکاری اندازوں کے مطابق بغداد کی دو لاکھ کی کل آبادی میں سے 55 سے 80 ہزار لوگ یہودی تھے۔ یہ تناسب یورپ میں یہودیوں کے بڑے مراکز یعنی وارسا اور برلن سے زیادہ تھا۔

آج بغداد میں یہودیوں کی تعداد دس افراد سے بھی کم پر مشتمل ہے۔

20ویں صدی کے دوران سنہ 1948 میں اسرائیلی ریاست کے قیام کے بعد معاشی ہجرت، سیاسی دباؤ اور یہودیوں کے خلاف کھلے عام تعصب کی وجہ سے خلیج فارس کی تقریباً تمام یہودی بستیاں کم ہوتے ہوتے ختم ہو گئیں۔

خلیجی یہودی آبادیوں میں سے صرف دو ہی باقی بچیں۔ ایران میں شاید 25 ہزار کے قریب یہودی باقی بچے ہیں جبکہ بحرین میں اگرچہ چند ہی یہودی گھرانے باقی بچے ہیں، لیکن یہ گھرانے اچھا خاصا سیاسی اثر ورسوخ رکھتے ہیں۔ گذشتہ برس تک امریکہ میں تعینات بحرینی سفیر ایک یہودی خاتون تھیں جن کا نام نودا نونو ہے۔

خلیج میں باقی بچ جانے والی یہودی بستیوں میں سے شاید ہی کوئی ایسی ہو جسے گذشتہ صدی میں سکون کا سانس نصیب ہوا ہو۔ علاقے میں تعینات برطانوی سرکاری اہلکاروں نے اپنی دستاویزات میں سنہ 1950 میں ایران میں اور پھر سنہ 1929 میں بحرین میں یہودیوں پر نسلی بنیادوں پر حملوں کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خلیج میں باقی بچ جانے والی یہودی بستیوں میں سے شاید ہی کوئی ایسی ہو جسے گذشتہ صدی میں سکون کا سانس نصیب ہوا ہو

اسی طرح ایک سابقہ برطانوی سفارتکار جان گورڈن لوریمر نے بھی لکھا تھا کہ کیسے کویت میں ’شراب طہور‘ بنانے والے یہودی تاجروں کے حوالے سے یہاں تناؤ پیدا ہو گیا تھا کیونکہ ان پر الزام تھا کہ ان کی بنائی ہوئی شراب سے مسلمان اپنے مذہبی قوانین کی پرواہ کیے بغیر شراب پینا شروع ہو گئے تھے۔

سنہ 1917 میں حکومت برطانیہ کو ایک عجیب و غریب منصوبہ پیش کیا گیا جس میں یہ تجویز دی گئی کہ بحرین کو مرکز بنا کر خلیج کے عرب علاقوں میں ’مشرقی عریبییہ کی یہودی ریاست‘ کی ریاست قائم کی جائے، تاہم یہ تجویز محض ایک تجویز ہی رہی۔ اس منصوبے کے پیش کیے جانے کے چند ہی ہفتوں بعد برطانوی وزیر خارجہ آرتھر بلفور نے ’یہودی لوگوں کے ایک قومی گھر‘ کے قائم کی تجویز کی حمایت کر دی تھی۔

اسی بارے میں