انڈونیشیا: مٹی کے تودے گرنے سے 20 ہلاک، 80 لاپتہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لینڈ سلائیڈنگ سے جمبلونگ گاؤں ہی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے

انڈونیشیا کے جزیرے جاوا کے حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں مٹی کے تودے گرنے سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 80 سے زیادہ اب بھی لاپتہ ہیں۔

یہ تودے وسطی جاوا میں جمبلنگ نامی گاؤں میں شدید بارشوں کے بعد جمعے کی شب گرے تھے۔

امدادی ادارے کے حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیموں نے اب تک متاثرہ علاقے سے 40 افراد کو ہسپتال منتقل کیا ہے جن میں سے چار کی حالت نازک ہے۔

حکام کے مطابق پولیس اہلکاروں اور فوجیوں پر مشتمل امدادی ٹیموں کے سینکڑوں کارکن اور مقامی افراد ملبے میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

جاوا میں حکام کا کہنا ہے کہ مٹی کے تودوں تلے دب کر سینکڑوں مکانات تباہ ہوئے ہیں۔

متاثرہ علاقوں میں بلڈوزر اور دیگر مشینیں بھیجی جا رہی ہیں تاکہ امدادی کاموں میں تیزی لائی جا سکے۔

امدادی ایجنسی کے ترجمان سوتوپو پروو نگورو کا کہنا ہے کہ ’حالات ابتر ہیں اور ہمیں مٹی تلے دبی سڑکیں صاف کر کے راستے کھولنے کے لیے بھاری مشینری درکار ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ لینڈ سلائیڈنگ سے جمبلونگ گاؤں ہی سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور اب تک متاثرہ علاقے سے 379 افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

انڈونیشیا میں مٹی کے تودے گرنے کے واقعات عام ہیں اور اکثر موسمی بارشوں کے نتیجے میں ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں