جرمنی میں اسلام مخالف مظاہرے سے کشیدگی

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جرمنی کی میڈیا کے مطابق پگیڈا کی شروعات ایک فیس بک پیج سے ہوئی۔ یہ پیج 41 سالہ گرافک ڈیزاینر لٹز بخمین نے شروع کیا تھا

جرمنی کے مشرقی شہر ڈریسڈن میں ’مغرب کی اسلامائزیشن‘ کے خلاف پیر کو ایک مارچ منعقد کیا جا رہا ہے جس میں توقع کی جا رہی ہے کہ اس میں ہزاروں افراد حصہ لیں گے۔

تاہم دوسری جانب اس مارچ کے خلاف ایک مظاہرے کا اہتمام کیا گیا ہے لیکن اس میں کم لوگوں کی شرکت کا امکان ہے۔

ڈریسڈن میں ’مغرب میں اسلامائزیشن کے خلاف محب وطن یورپی‘ یعنی پگیڈا نامی مہم کا قیام ہوا جہاں اس نے ایک ہفتہ قبل ہی مظاہرہ کیا تھا۔

جرمنی کے وزیر انصاف ہیکو ماس نے پگیڈا کی جانب سے مظاہروں کو ’شرمناک‘ قرار دیا۔ تاہم اے ایف ڈی نامی سیاسی جماعت نے اس کی حمایت کی۔

اے ایف ڈی کے سربراہ برنڈ لک کا کہنا ہے ’پگیڈا کے زیادہ تر مطالبات جائز ہیں۔‘

یاد رہے کہ اے ایف ڈی نے بھی امیگریشن کے قوانین کو مزید سخت کرنے کی مہم چلائی تھی۔

اتوار کو جرمنی کے شہر کولون میں 15 ہمار افراد نے برداشت اور کھلے ذہن رکھنے کے حق میں ’ہم کولون ہیں، یہاں کوئی نازی نہیں‘ کے نام سے ایک مظاہرہ کیا۔

جرمنی میں امیگریشن کے قوانین پر بحث چھڑی ہوئی ہے۔ شام اور عراق میں جنگ کے باعث جرمنی میں پناہ لینے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

سنہ 2014 میں دو لاکھ افراد نے پناہ کی درخواستیں دیں جبکہ 2013 میں یہ تعداد ایک لاکھ 27 ہزار تھی۔

جرمنی کی میڈیا کے مطابق پگیڈا کی شروعات ایک فیس بک پیج سے ہوئی۔ یہ پیج 41 سالہ گرافک ڈیزاینر لٹز بخمین نے شروع کیا تھا۔

بخمین کا اصرار ہے کہ وہ نسل پسند نہیں ہیں۔ ان کو ماضی میں منشیات بیچنے کے جرم میں دو سال قید بھی ہو چکی ہے۔

سیاسی جماعت اے ایف ڈی کا کہنا ہے کہ پگیڈا پناہ کے حوالے سے ٹھوس قوانین کی موجودگی کے خلاف احتجاج کر رہی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس مہم کا مقصد یہ بھی ہے کہ قانون توڑنے والوں پر بلا امتیاز جرمنی کے قوانین لاگو ہونے چاہئیں اور وہ مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ہے۔

سوشل ڈیموکریٹس سیاسی جماعت جو حکومت کی اتحادی ہے نے پگیڈا کے منتظمین کو ’پن سٹرائپس میں نازی‘ قرار دیا ہے۔

پولیس ذرائع نے شپیگل آن لائن کو بتایا کہ ڈریسڈن میں پگیڈا کے سینکڑوں کارکن دو جرائم پیشہ گروہوں کے رکن ہیں۔

اسی بارے میں