لیبیا: تیل کی دو اہم تنصیبات پر کنٹرول کی جنگ جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لیبیا 2011 میں کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اندرونی مسلح تصادم سے دوچار ہے

لیبیا کی دو اہم تیل کی تنصیبات راس لانوف اور سدرا کے گرد مخالف ملیشیا کے درمیان لڑائی کا سلسلہ جاری ہے۔

ان جھڑپوں کے باعث ان تنصیبات کو سنیچر کے روز بند کردیا گیا تھا۔

حکومت نواز فورسز اور حریف ملیشیا جو مغربی لیبیا کے زیادہ تر علاقے پر قابض ہے کے درمیان گزشتہ دو روز سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ان جھڑپوں کے نتیجے میں کم از کم پانچ افراد مارے گئے۔

لیبیا 2011 میں کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے اندرونی مسلح تصادم سے دوچار ہے۔

فجر لیبیا تحریک دارالحکومت طرابلس اور مغربی لیبیا کے سب سے زیادہ حصے پر قابض ہے۔ اس ملیشیا نے ہفتہ کے روز تیل کی تنصیبات پر اچانک حملہ کر دیا تھا۔

یہ تنصیبات لیبیا کی منتخب حکومت کے وفادار جنگجوؤں کے زیرِ اختیار ہیں۔

اس بارے میں متضاد اطلاعات ہیں کہ آیا فجر لیبیا تحریک کے جنگجوؤں تیل کی تنصیبات پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ نہیں۔

لیبیا کی آدھے سے زیادہ تیل کی پیداوار ان تنصیبات سے ہوتی ہے اور ملک کی معیشت کا مکمل طور پر انحصار تیل کی برآمدات پر ہے۔

یاد رہے کے ملک میں جاری خانہ جنگی اور بدامنی کی وجہ سے تیل کی پیداوار پہلے ہی بہت متاثر ہوئی ہے۔

لیبیا کی حکومت کے جنگی طیاروں نے بھی تیونس کی سرحد کے قریب فجر لیبیا تحریک کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں کئی جنگجو مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔

طرابلس اور بن غازی سمیت ملک بھر میں مختلف گروہوں کا قبضہ ہے۔

حالیہ جھڑپوں کی وجہ سے ملک کی پارلیمنٹ کو تبروک منتقل کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں