ترکی: صحافیوں کی گرفتاری پر یورپی یونین کی تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زمان اخبار کے مدیر اعلی پولیس جیپ میں لے جائے جانے سے قبل

ترکی میں میڈیا کے نمائندوں کی بڑے پیمانے پر گرفتاری کے خلاف یورپی یونین کے سرکردہ رہنماؤں نے سخت تنقید کی ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ فیڈیریکا موغرینی اور یورپی یونین کو توسیع دینے کے سلسلے میں مذاکراتی کمشنر نے کہا ہے کہ ’یہ گرفتاریاں یورپی اقدار کے منافی ہیں۔‘

واضح رہے کہ ایک سرکردہ اخبار اور ٹی وی سٹیشن سے پولیس کے چھاپے میں کم از کم 24 افراد گرفتار کیے گئے ہیں اور ان کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ حزب اختلاف سے ان کے تعلقات ہیں۔

گرفتار کیے جانے والے صحافیوں پر ایک غیر قانونی ادارہ قائم کرنے اور ریاست کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

زمان اخبار اور سمنیولو ٹی وی چینل دونوں کا تعلق امریکہ میں مقیم اسلامی رہنما فتح اللہ گولن سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ GETTY IMAGES
Image caption صدر اردگان نے چند دن پہلے ہی فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف مہم شروع کرنے کا اعلان کیا تھا

فتح اللہ گولن ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کے پہلے حامی ہوا کرتے تھے لیکن اب وہ خود اختیاری جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ ان پر ترکی میں متوازی حکومت چلانے کا الزام ہے۔

موغرینی اور یورپی توسیعی کمشنر جوہانس ہان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے مکمل طور پر قانون اور بنیادی حقوق کی پاسداری ضروری ہے۔‘

ان دونوں کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’چھاپے اور گرفتاریاں میڈیا کی آزادی کے منافی ہیں جو کہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔‘

بیان میں کہا گیا ہے: ’ہم امید کرتے ہیں کہ بے گناہی کے حسن ظن کے اصول کو بروئے کار لایا جائے گا اور آزادانہ اور شفاف جانچ کے حق کا استعمال کیا جائے گا۔‘

Image caption امریکہ میں مقیم فتح اللہ گولن صدر اردگان کے سیاسی حریف ہیں

واضح رہے کہ چند دن پہلے ہی فتح اللہ گولن کے حامیوں کے خلاف مہم شروع کرنے کے اردوگان کے اعلان کے بعد یہ چھاپے سامنے آئے ہیں۔

گرفتار کیے جانے والے افراد میں صحافی، پروڈیوسرز، سکرپٹ رائٹرز اور ایک پولیس چیف بھی شامل ہیں۔ ان میں زمان اخبار کے مدیر اعلی اور سمنیولو ٹی کے چیئر مین بھی شامل ہیں۔

استنبول میں روزنامہ زمان کے دفتر پر چھاپے کے وقت لوگوں کی ایک بڑی تعداد عمارت کے باہر جمع تھی اور انھوں نے پولیس کو عمارت سے باہر نکالنے پر مجبور کیا۔

ہدایت کاراکا نے گرفتاری سے پہلے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے حکومت کی کارروائی کو ترکی کے لیے باعث شرمندگی قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption مظاہرین ’آزاد پریس کو خاموش نہیں کیا جا سکتا‘ کا نعرہ لگا رہے تھے

روزنامہ زمان کے عملے کو پولیس کی کارروائی کا پہلے ہی علم ہو گیا تھا کیونکہ ٹوئٹر پر پولیس کریک ڈاؤن کی معلومات افشا ہو گئی تھیں۔

جب پولیس نے چھاپے مارے تو زمان اخبار کے سٹاف پلیکارڈ لیے کھڑے تھے اور وہ یہ نعرے لگا رہے تھے کہ ’آزاد پریس کو خاموش نہیں کیا جا سکتا۔‘

مدیر اعلی اکرم دومنلی نے مسکراتے ہوئے کہا: ’جنھوں نے جرم کیا ہے انھیں خوفزدہ ہونا چاہیے ہم لوگ خوفزدہ نہیں ہیں۔‘

اسی بارے میں