تیل کی قیمتیں پانچ سال میں کم ترین سطح پر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ہو سکتا ہے کہ تیل کے نئے کنوؤں میں سرمایہ کاری بھی کم ہو جائے

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں مزیدگرگئی ہیں جس کے بعد یہ قیمتیں مئی سنہ 2009 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر آ گئی ہیں۔

منگل کو عالمی منڈی میں برینٹ کرُوڈ کی قیمت 59 ڈالر فی بیرل تک گر چکی تھی۔

منگل کو جب کاروبار شروع ہوا تو برینٹ کرُوڈ کی قیمت 58.50 ڈالر فی بیرل تک گرگئی، تاہم دن گزرنے کے ساتھ یہ قیمت کسی قدر سنبھلی اور 58.94 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔

آج کی قیمتیوں کو مدنظر رکھیں تو یہ کہنا درست ہوگا کہ طلب میں مسلسل کمی اور رسد میں اضافے کے باعث اس سال جون کے مقابلے میں خام تیل کی قیمتیں اب نصف ہو چکی ہیں۔

خام تیل کی قیمتوں میں تازہ ترین گراوٹ دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین میں صنعتی پیداوار میں کمی کے باعث ہوئی ہیں۔

برینٹ کروڈ کے ساتھ ساتھ امریکی خام تیل یو ایس کروڈ کی قیمت میں بھی 1.73 ڈالر کی کمی دیکھنے میں آئی ہے اور اب یوایس کروڈ کی قیمت 54.18 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک نے ایک مرتبہ پھر کہا کہ رکن ممالک تیل کی قیمتوں میں ٹھہراؤ کی غرض سے اپنی پیداوار میں کمی نہیں کریں گے۔

اوپیک کی جانب سے یہ بیان توانائی کی بین الاقوامی تنظیم انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے اس بیان کے محض دو دن بعد آیا تھا جس میں تنظیم نے سنہ2015 کے لیے تیل کی مانگ میں کمی کا اعلان کیا تھا۔

روسی کرنسی کی قدر میں کمی

اگرچہ تیل کی قیمتوں میں کمی سے کئی ممالک کی معیشتوں کو تقویت ملے گی، لیکن اس گراوٹ سے تیل برآمد کرنے والے ممالک پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اس حوالے سے منگل کو روس نے اپنی کرنسی روبل کی قدر میں کمی کے رجحان پر قابو پانے کی غرض سے اپنے ہاں سود کی شرح میں اچانک اضافہ کر دیا۔

اس سال کے دوران مغربی ممالک کی جانب سے لگائی جانے والے اقتصادی پابندیوں اور تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کے بعد امریکی ڈالر کے مقابلے میں روبل کی قیمت 50 فیصد کم ہو چکی ہے۔

سرمایہ کاری میں کمی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روس نے شرح سود میں اچانک اضافہ کر دیا ہے

امریکہ میں تیل کی پیداور میں زبردست اضافے اور یورپ میں معاشی بحالی میں سست روی کے پس منظر میں زیادہ تر ماہرین کا خیال ہے کہ مستقبل قریب میں خام تیل کی قیمتیں کم ہی رہیں گی۔

تاہم قیمتوں میں اس کمی کی وجہ سے ہو سکتا ہے کہ تیل کے نئے کنوؤں میں سرمایہ کاری بھی کم ہو جائے، جس کے بعد آنے والے سالوں میں تیل کی قیمتوں میں پھر اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔

مشہور بینک گولڈمین سیکس کا اندازہ ہے کہ خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ کمی کی وجہ سے تیل کے منصوبوں میں 90 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک کی سرمایہ کاری رک سکتی ہے۔

اگر یہ سرمایہ کاری نہیں ہوتی تو سنہ 2025 تک تیل کی پیداوار میں 75 لاکھ بیرل یومیہ کی کمی ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں