سڈنی میں کیفے کا محاصرہ ختم، حملہ آور سمیت 3 ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس کے مطابق اس واقعے میں حملہ آور سمیت 3 افراد ہلاک ہوئے ہیں

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں پولیس نے ایک کیفے میں کمانڈو آپریشن کے بعد یرغمال بنائے گئے افراد کو رہا کروا لیا ہے مگر اس کارروائی میں حملہ آور سمیت 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

اس کیفے میں ایک سیاسی پناہ حاصل کرنے والے ایک ایرانی ہارون مونس نے متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

دوسری جانب طبی حکام کو کیفے کی عمارت سے کئی افراد کو سٹریچرز پر ڈال کر لیجاتے ہوئے دیکھا گیا ہے جس سے اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ اس کارروائی میں متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سڈنی میں متعدد افراد یرغمال: تصاویر میں

سڈنی: محاصرے سے یرغمالی کی بازیابی تک

پیر کی صبح ہارون مونس نے سڈنی شہر کے مصروف کاروباری علاقے مارٹن پلیس میں واقع لنٹ کیفے میں موجود متعدد افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ہارون مونس کو کو آسٹریلیا میں پناہ دی گئی تھی اور اس کے سابق وکیل کا کہنا ہے کہ وہ تنہا رہنے والا شخص ہے

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم ٹونی ایبٹ نے اس واقعے کو ’شدید دہشت انگیز‘ قرار دیا جہاں ’ایک مسلح شخص لوگوں کو یرغمال بنائے ہوئے ہے اور اس کی وجہ سیاسی ترغیبات بتاتا ہے۔‘

آسٹریلیا کی پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ایک 34 سالہ مرد اور ایک 38 خاتون شامل ہیں جبکہ ایک اور 50 سالہ شخص بھی ہلاک ہو گیا جس کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ حملہ آور تھا۔

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق رائل آسٹریلین رجمنٹ نے تب کیفے پر آپریشن شروع کیا جب حملہ آور نے فائرنگ شروع کر دی۔

مقامی وقت کے مطابق 2 بجے کئی یرغمالیوں نے عمارت سے فرار ہونا شروع کیا۔

اس کے کچھ منٹس کے بعد کمانڈوز اسلحہ سے لیس ہیلمنٹ پہنے ہوئے عمارت میں داخل ہوتے ہوئے دکھائی دیے جو داخل ہونے سے پہلے بے ہوش کرنے والے گرنیڈ پھینک رہے تھے اور بعد میں بظاہر فائرنگ کرتے ہوئے۔

اس کے ساتھ ہی یرغمالی ہاتھ فضا میں بلند کیے ہوئے حفاظت کے لیے دوڑتے ہوئے دکھائی دیے اور ایک مرد اور عورت کو ایمرجنسی حکام لیجاتے ہوئے دکھائے دیے اور طبی عملے کو زمین پر لیٹے ہوئے ایک شخص کی دیکھ بھال کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

یہ سارے منظر براہِ راست ٹی وی پر نشر کیے گئے اور مقامی وقت کے مطابق 2 بج کر 44 منٹ پر ایک ٹویٹ کے ذریعے اعلان کیا کہ محاصرہ ختم ہو گیا ہے۔

حملہ آور ہارون مونس نے آسٹریلیا میں 1996 میں سیاسی پناہ حاصل کی تھی اور کئی مقدمات میں ضمانت پر رہا ہے۔

ایک ویب سائٹ جو اب بند ہو چکی اس پر یہ شخص اپنے آپ کو شیعہ مسلمان کہلاتا ہے جو بعد میں سنی ہوا۔

اپنے آپ کو مولوی کہنے والے اس شخص کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ ایک تنہا شخص ہیں اور ان کے کیفے سے ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ انہیں دولتِ اسلامیہ کا جھنڈا پہنچایا جائے۔

جس علاقے میں یہ واقعہ ہوا ہے وہاں ریاست کے سربراہ کا دفتر اور بڑی بین القوامی بینکوں کے صدر دفاتر بھی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی واقع سڈنی کے مشہور اوپرا ہاؤس میں شام کی پرفارمنس منسوخ کر دی گئی جب علاقے کی دکانیں اور دفاتر سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے خالی کروا لیے گئے تھے۔

اس سے قبل اسی علاقے میں ایک شخص پر ایک شہری کا سر قلم کرنے کا منصوبہ بنانے کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔

اکتوبر میں آسٹریلیا کی پارلیمنٹ نے نئے انسدادِ دہشت گردی قوانین منظور کیے تھے جن کا مقصد آسٹیلوی شہریوں کو بیرون ملک لڑنے سے روکنا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption واقعے کے کئی گھنٹے بعد کیفے سے دو خواتین باہر نکلنے میں کامیاب ہوئی ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس کے تفتیش کار مسلح شخص کے ارادوں کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پولیس واقعے کے پانچ گھنٹے بعد اب اغوا کار سے رابطے میں ہے
تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سڈنی کے اس علاقے مارٹن پلیس کو سینکڑوں پولیس اہلکاروں نے گھیرے میں لے لیا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آسٹریلیا کی مشہور عمارت سڈنی کے اوپرا ہاؤس کو بھی خالی کروا لیا گیا ہے

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مذکورہ عمارت کے آس پاس واقع گلیاں بند کر دی گئی ہیں اور لوگوں کو وہاں سے باہر نکال دیا گیا ہے

اسی بارے میں