حماس دہشتگرد گروہوں کی فہرست سے خارج

حماس تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حماس کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے تو نکالا گیا ہے لیکن اس کے فنڈز تاہم منجمد ہی رہیں گے

یورپی یونین کی ایک بڑی عدالت نے اتحاد کے رکن ممالک کی جانب سے فلسطینی تنظیم حماس کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست سے نہ نکالنے کے فیصلے کو رد کر دیا ہے۔

ججوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پہلا فیصلہ حماس کے عوامل کو دیکھ کر نہیں کیا گیا بلکہ پریس کی کٹنگز اور انٹرنیٹ کی معلومات کی بنا پر کیا گیا تھا۔

عدالت نے کہا کہ یہ ایک ٹیکنیکل فیصلہ تھا اور اس کا مقصد حماس کا بطور ایک دہشت گرد گروہ دوبارہ تعین کرنا نہیں تھا۔

عدالت نے کہا کہ گروہ کے فنڈز تاہم منجمد ہی رہیں گے۔

حماس کی غزہ میں اکثریت ہے اور گرمیوں میں اس نے اسرائیل کے ساتھ 50 روزہ جنگ بھی لڑی تھی۔ اس کے چارٹر میں لکھے گئے عزم میں اسرائیل کی تباہی بھی شامل ہے۔

عدالت کے فیصلے کے خلاف ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نتن یاہو نے کہا کہ ’وہ قاتل دہشت گرد گروہ ہے اور اسے فوراً لسٹ میں واپس ڈال دینا چاہیے۔‘

اسرائیل، امریکہ اور کئی دیگر ممالک نے حماس کے اسرائیل پر حملوں کے ریکارڈ اور تشدد کا راستہ ترک کرنے سے انکار کی وجہ سے اسے ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے۔

1987 میں قائم کی جانے والے حماس نے 2006 میں پارلیمانی انتخابات جیتے تھے۔ اگلے سال ہی اس نے اپنے حریف فتح گروہ کو غزہ سے نکال دیا تھا۔

اس کے حمایتی اسے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کرنے والی جائز تحریک سمجھتے ہیں۔

سنہ 2001 میں دی کونسل آف دی یورپی یونین نے حماس کے عسکری دھڑے عزت الدین قسام بریگیڈ کو ابتدائی دہشت گرد لسٹ میں شامل کیا تھا ، اس کے دو سال بعد اس کے سیاسی دھڑے کو بھی شامل کر لیا گیا۔

حماس نے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی اور بدھ کویورپی یونین کی عدالت نے فیصلہ دیا کہ پہلا فیصلہ عوامل کو جانچ کر نہیں کیا گیا اور نہ ہی مقتدر حکام سے اس کی تصدیق کی گئی بلکہ وہ پریس اور انٹرنیٹ پر لگائی تہمتوں کو سامنے رکھ کر دیا گیا تھا۔

اسی بارے میں