ترکی: تختہ پلٹنے کے الزام میں فٹبال مداحوں پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بیسکتاز ٹیم کے مداح منگل کو استنبول میں سماعت کے دوران مظاہرے کے لیے یکجا ہوئے تھے

ترکی کی ایک اہم فٹبال ٹیم کے 35 حامیوں کے خلاف منگل کو مقدمے کی سماعت شروع ہوئی لیکن بعد میں اسے ملتوی کر دیا گیا۔

ان کے لیے سنہ 2013 میں رجب طیب اردوگان کی حکومت کا تختہ الٹنے کے الزام میں عمر قید کی سزا کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

اس موقعے پر بیسکتاز نامی فٹبال ٹیم کے سینکڑوں حامیوں نے استنبول میں عدالت کے سامنے مظاہرہ کیا۔ وہ ملزمان کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

تمام ملزمان بیسکتاز ٹیم کے اہم فین کلب ’چارشی گروپ‘ کے رکن ہیں اور چارشی کا مطلب ترکی زبان میں بازار ہے۔

واضح رہے کہ ایک سال قبل جب رجب طیب اردوگان کی حکومت کے خلاف مظاہرے ہو رہے تھے اس وقت وہ ملک کے وزیر اعظم ہوا کرتے تھے۔

استغاثہ نے ان تمام 35 افراد پر اردوگان کی حکومت کو گرانے کا الزام لگایا ہے۔

جبکہ دفاعی وکیلوں کا کہنا ہے کہ یہ دنیا میں پہلا موقع ہوگا جب کسی فٹبال ٹیم کے مداحوں پر تختہ الٹنے کا الزام لگایا گیا ہو۔

گذشتہ دنوں صحافیوں کی گرفتاری پر یورپی یونین نے ترکی حکومت پر تنقید کی تھی۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان الزمات کو بے بنیاد اور احمقانہ کہہ کر ان کا مذاق اڑایا ہے جو کہ ٹیکسٹ میسیج اور ٹیلیفون کی گفتگو پر مبنی ہیں کہ انھوں نے حکومت پر تنقید کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چارشی فین کلب کے اراکین گذشتہ سال تقسیم سکوائر پر مظاہرے کے دوران

انھوں نے اسے ’ترکی کے تعزیراتی نظام کا بے جا استعمال‘ قرار دیا ہے۔

ترکی میں انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ کی سینيئر محقق ایما سینکلیئر ویب نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’بیسکتاز فٹبال کلب کے ان پرستاروں کو ایک عوامی مظاہرے میں شرکت کرنے کے لیے ملک کا دشمن قرار دینا مضحکہ خیز ہے۔‘

سرکاری وکیل نے ان لوگوں کے لیے عمر قید کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ لوگ ابھی حراست میں نہیں ہیں اور یہ عدالت میں دوسرے دروازے سے داخل ہوئے تھے۔

ان پر یہ بھی الزام ہے کہ چارشی کے ارکان نے بیرون ممالک کے میڈیا کو تصادم کی تصاویر فراہم کر کے مظاہرے کو ’بہار عرب‘ کی شکل دینے کی کوشش کی۔ ان پر ’مجرمانہ گروہ‘ کے طور پر کام کرنے اور پولیس کے ساتھ مزاحمت کرنے کا بھی الزام ہے۔

چارشی فین کلب ان سیکیولر اصولوں کے پیرو کے طور پر بھی جانا جاتا ہے جس پر جدید ترکی کے بانی مصطفی کمال اتاترک اور ملک کی بائیں بازو کی جماعت عمل پیرا رہی ہے۔

اسی بارے میں