پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا کوئی جواز نہیں بنتا: اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس کے مطابق حملہ آور ایک سیاہ فام تھا جبکہ مرنے والے پولیس افسران ایشیائی اور ہسپانوی نسل کے تھے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے نیویارک میں ایک مسلح شخص کے ہاتھوں دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔

سنیچر کو یہ واقعہ بروکلین میں پیش آیا ہے جب حملہ آور نے پولیس کی گاڑی میں بیٹھے دو اہلکاروں کوگولی ماری اور بعد میں حملہ آور نے خودکشی کر لی۔

صدر اوباما ان دنوں چھٹیاں گزارنے ریاست ہوائی میں ہیں اور سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا کہ پولیس افسران اپنے پیاروں کے پاس گھر نہیں جا رہے تھے اور ان ہلاکتوں کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔

’میں قطعی طور پر نیویارک میں دو پولیس افسران کے قتل کی مذمت کرتا ہوں، پولیس افسران اپنی جان خطرے میں ڈال کی ہر روز ہماری برادریوں کی حفاظت کرتے ہیں اور وہ ہر روز عزت اور شکر گزاری کے حق دار ہیں۔‘

نیویارک پولیس کے کمشنر بل بریٹن کا کہنا ہے کہ ان پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی وجہ ان کی ملازمت بنی۔ انھوں نے اسے بہیمانہ قتل کا واقعہ قرار دیا ہے۔

پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے بعد حملہ آور نزدیکی سب وے کی جانب بھاگا جہاں اس نے اپنے آپ کو گولی مار کر خودکشی کر لی۔

حملہ آور کی شناخت 28 سالہ اسماعیل برنسلے کے طور پر ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب شہر کی پولیس کے رویے اور ملزمان سے نمٹنے کے طریقوں کی کڑی جانچ جاری ہے

اہلکاروں پر جان لیوا حملہ کرنے سے قبل حملہ آور نے اپنی سابقہ گرل فرینڈ کو بھی گولی مار کر زخمی کیا تھا اور سوشل میڈیا پر پولیس مخالف پیغام بھی چھوڑا تھا۔

نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو کا کہنا ہے کہ یہ واضح طور پر قتل کا واقعہ ہے اور سارا شہر ان ہلاکتوں پر سوگوار ہے۔

یہ نیویارک میں گذشتہ تین برس میں کسی پولیس اہلکار کی ہلاکت کا پہلا معاملہ ہے۔

لیو وینجن اور رافیئل راموس نامی پولیس اہلکاروں کو سنیچر کی سہ پہر اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ گشت سے لوٹے تھے۔ حملے کے فوری بعد انھیں ہسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور ایک سیاہ فام تھا جبکہ مرنے والے پولیس افسران ایشیائی اور ہسپانوی نسل کے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس واقعے کے بعد پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا

امریکہ کے اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر نے ان ہلاکتوں کو ’بربریت کی ناقابلِ بیان کارروائی‘ قرار دیا ہے۔

نیویارک میں بی بی سی کی سمیرا حسین کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا ہے جب شہر کی پولیس کے رویے اور ملزمان سے نمٹنے کے طریقوں کی کڑی جانچ کی جا رہی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں نیویارک میں ایک گرینڈ جیوری نے اپنے فیصلے میں پولیس کے افسران کو ایک سیاہ فام شخص ایرک گارنر کی ہلاکت کے الزام سے بری کر دیا تھا۔

ان سفید فام افسران پر الزام تھا کہ انھوں نے سگریٹ فروخت کرنے کے الزام میں حراست میں لینے کی کوشش کے دوران گارنر کا گلا ایسے پکڑا کہ اس کا سانس بند ہوگیا تھا۔

جیوری کے اس فیصلے کے خلاف نیویارک اور امریکہ کے دیگر شہروں میں مظاہرے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں