سعودی عرب: کارروائی میں چار شدت پسند ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سعودی عرب کے مشرقی علاقوں میں شیعہ آبادی اکثریت میں ہے اور حکومت کے خلاف مظاہرہ بھی ہو چکے ہیں

سعودی عرب میں حکام کے مطابق ملک کے مشرقی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں چار شدت پسند مارے گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ العوامیہ کے علاقے میں کارروائی کے دوران مارے جانے والے افراد گذشتہ اتوار کو ایک فوجی کی ہلاکت میں ملوث تھے۔

العوامیہ اس شورش زدہ مشرقی صوبے میں واقع ہے جہاں بڑی تعداد میں شیعہ آباد ہیں۔

ایک عرصے سے شیعہ شہری سعودی عرب کے سنی حکمرانوں کے خلاف تعصب کا الزام عائد کرتے ہیں جسے سعودی حکام مسترد کرتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایران شیعہ آبادی کو اکسانے میں ملوث ہے۔

گذشتہ اتوار کو العوامیہ میں کھیتوں سے ایک فوجی دستے پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا تھا۔

سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مارے جانے والوں میں مرکزی مشتبہ شخص بھی شامل ہے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کی زیادہ تر اقلیتی شیعہ آبادی تیل سے مالا مال مشرقی صوبے میں رہتی ہے۔

2011 کے اوائل سے شروع ہونے احتجاج میں اب تک 20 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ سینکڑوں کو گرفتار کیا گیا ہے اور کم از کم 300 افراد ابھی بھی زیرِحراست ہیں۔

کئی افراد کو بغاوت اور فسادات کرنے کے الزام میں موت کی سزا بھی سنائی گئی ہے۔

شیعہ سماجی اور سیاسی کارکن سعودی حکومت پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔

اسی بارے میں