اسلحے کی تجارت کے عالمی معاہدے کی توثیق

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس معاہدے میں سرحد پار متنازع ہتھیاروں کی منتقلی پر ضابطے شامل ہیں

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسلحے کی تجارت کے عالمی معاہدے پر عمل در آمد کو ایک ’نئے باب‘ سے تعبیر کیا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ وہ پرامید ہیں کہ اس کے نتیجے میں اسلحہ جنگی سرداروں، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والوں، دہشت گردوں اور جرائم پیشہ تنظیموں تک نہیں پہنچ پائے گا۔

اسلحے کی خرید و فروخت کرنے والی اربوں ڈالر کی تجارت کو منضبط کرنے والے اس معاہدے میں جنگی جرائم اور قتل عام کو فروغ دینے والوں کو ہتھیار فروخت کرنے کی ممانعت کی گئي ہے۔

ابھی تک 60 ممالک نے اس کی توثیق کی ہے جن میں دنیا میں سب سے زیادہ اسلحہ برآمد کرنے والا ملک امریکہ شامل نہیں ہے۔

واضح رہے کہ واشنگٹن نے سنہ 2013 میں اس معاہدے پر دستخط کیے تھے لیکن اسے اب امریکی سینیٹ کی منظوری درکار ہے جہاں اس کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔

دنیا میں اسلحے کی خرید و فروخت کرنے والے دیگر بڑے اور اہم ممالک جیسے چین، روس، بھارت اور پاکستان کے بھی اس پر دستخط ہونے باقی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ THINKSTOCK
Image caption اس معاہدے سے یہ امید کی جاتی ہے کہ جنگی سرداروں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والوں، دہشت گردوں اور جرائم پیشہ تنظیموں تک اسلحہ نہیں پہنچے گا

ایک بیان میں اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون نے کہا کہ یہ معاہدہ ’عالمی اسلحے کی تجارت میں ذمہ داری، جواب دہی اور شفافیت لانے کی ہماری اجتماعی کوششوں میں ایک نئے باب کے مترادف ہے۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’بالآخر یہ جنگ اور تشدد زدہ علاقوں میں اسلحے کی منتقلی کو روک کر انسانی پریشانیوں کو کم کرنے کی ہماری اجتماعی کوششوں پر صاد کرتا ہے۔‘

اس کے ساتھ ہی بان کی مون نے دوسرے ممالک پر اس میں ’بغیر کسی تاخیر‘ کے شامل ہونے پر زور دیا۔

اسلحےکی خرید و فروخت کے سخت نظام کی وکالت کرنے والی دوسری عالمی تنظیموں مثلا ایمنسٹی انٹرنیشنل اور کنٹرول آرمز کوالیشن نے عالمی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاہدے کے اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہوں۔

Image caption ابھی روس، چین، بھارت اور پاکستان جیسے ممالک کے اس پر دستخط ہونے باقی ہیں

اس معاہدے پر تقریباً 130 ممالک نے دستخط کیے ہیں جن میں دنیا کے دس بڑے اسلحہ ساز ممالک میں سے پانچ یعنی برطانیہ، فرانس، جرمنی، اٹلی اور سپین بھی شامل ہیں۔

اس معاہدے میں سرحد پار متنازع ہتھیاروں کی منتقلی پر ضابطے شامل ہیں۔ ان میں چھوٹے ہتھیار سے لے کر ٹینک اور توپ تک شامل ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ دنیا میں ہر سال تقریباً 85 ارب ڈالر کے اسلحے کی تجارت ہوتی ہے جبکہ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اصل تجارت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

اسی بارے میں