امریکہ، کیوبا تعلقات ایک ’تہذیبی تبدیلی‘

کیوبا اور امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption لاطینی امریکہ کے بیشتر ممالک نے صدر اوباما کی 17 دسمبر کی تقریر کو سراہا ہے

امریکہ اور کیوبا کے پانچ دہائیوں کی سرد مہری کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے کے فیصلے کا لاطینی امریکہ کے ممالک بہت عرصے سے انتظار کر رہے تھے اور جب سے یہ خبر سامنے آئی ہے اس پر ہی بحث جاری ہے۔

خطے کے سیاسی رہنما گزشتہ ہفتے کیے جانے والے اعلان کی تاریخی اہمیت پر روشنی ڈال رہے ہیں اور شاید اس سے بھی بڑھ کر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اس سے کیوبا اور امریکہ بلکہ پورے خطے پر کیسے اثرات پڑیں گے۔

برازیل کی صدر ڈلما روزیف نے اسے سراہتے ہوئے اسے ایک ’تہذیبی تبدیلی‘ کہا ہے، جبکہ پیرو کے اولانٹا ہمالا نے کہا ہے کہ یہ ایک ’اہم، تاریخی اور بہادر‘ قدم ہے جس سے لاطینی امریکہ اکٹھا ہو جائے گا۔ میکسیکو کے اینریک پینا نیاٹو نے اسے ایک فیصلہ کن اقدام کہا۔

سب سے بڑھ کر یہ کہ لاطینی امریکہ کے جو رہنما امریکہ پر تنقید کرتے رہتے ہیں انھوں نے بھی صدر اوباما کی تعریف کی ہے۔

بہت کم مواقعے ہی ہوں گے جب وینزیلا کے صدر نکولس مادورونے امریکہ میں اپنے ہم منصب کے متعلق کوئی مثبت الفاظ استعمال کیے ہوں۔ یہ ان موقعوں میں سے ایک تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ g
Image caption امریکہ اور کیوبا کے تعلقات پانچ دہائیوں سے منقطع تھے

انھوں نے اسے ایک بہادرانہ اور تاریخ کا ایک ضروری اقدام کہا۔ انھوں نے کہا کہ یہ ’شاید مسٹر اوباما کا بطور صدر سب سے اہم قدم ہے۔‘

صدر مادورو کا بیان زیادہ حیران کن ہے کیونکہ یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکی کانگریس نے وینزویلا کے حکام پر سال کے آغاز میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزام میں پابندیاں لگائیں ہیں۔

اس بل پر صدر اوباما نے کیوبا پر اعلان کے بعد دستخط کیے اور اب یہ ایک قانون بن گیا ہے۔ وینزویلا کے حکام نے اس پر شدید تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے۔

سیاسی میدان سے باہر سوشل میڈیا پر بھی امریکہ اور کیوبا تعلقات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر کی تقریر پندرہ منٹ جاری رہی اور اس میں انھوں نے دو ہزار الفاظ استعمال کیے جن میں سے پانچ ہسپانوی زبان میں سے تھے۔ اور یہی تھے جو پورے لاطینی امریکہ میں گونجتے رہے۔

انھوں نے ہسپانوی زبان میں کہا ’ہم سب امریکی ہیں‘ اور ’یہ آسان نہیں۔‘

سیاسی مبصرین نے 17 دسمبر کی تقریر کو نئے دور کے آغاز کا ایک ’ناقابلِ فراموش‘ دن کہا ہے۔

کولمبیا کے صحافی ہوان کارلوس نے اسے دیوارِ برلن کے گرنے سے تعبیر کیا۔

ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے کیتھولک فرقے کے مذہبی رہنما پوپ فرانسس کی بھی خصوصی تعریف کی گئی ہے کیونکہ انھوں نے مذاکرات منعقد کرانے میں مدد کی تھی۔

ایکواڈور کے صدر رافیل کوریا نے اسے پوپ کا ایک اور مذہبی کرشمہ کہا ہے۔

اسی بارے میں