اوباما کے لیے مشکل سال

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکہ میں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد حالات بدل گئے ہیں

امریکہ کے صدر براک اوباما کے لیے رواں سال زیادہ اچھا ثابت نہیں ہوا، تاہم متعدد افراد کا یہ بھی کہنا ہے کہ اتنی مشکلات کے باوجود وہ اس سال سے ہنستے مسکراتے ہوئے باہر نکل رہے ہیں۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ رواں برس اوباما انتظامیہ کے لیے مشکل سال تھا۔

امریکہ میں گذشتہ ماہ ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک جماعت کو شکست ہوئی اور رپبلکن جماعت نے کانگریس کے دونوں ایوانوں پر غلبہ حاصل کر لیا۔

نومبر کے وسط مدتی انتخابات سنہ 2013 میں اوباما کیئر ویب سائٹ پر پائی جانے والی مشکلات اور شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر مخالفین کی تنقید کے بعد منعقد ہوئے۔

امریکہ میں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد حالات بدل گئے ہیں۔

صدر اوباما کی جانب سے رواں سال کے اختتام پر کی جانے والی پریس کانفرنس میں اتفاقِ رائے پایا جاتا تھا کہ شمالی کوریا کے سربراہ کے قتل کے منصوبے کی کہانی پر مبنی مزاحیہ فلم ’دی انٹرویو‘ کی ریلیز روکنے کے لیے ہیکروں کی جانب سے سونی اور اس فلم کی نمائش کرنے والے سینیماؤں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دینے کے بعد صدر اومابا اس کی سخت مذمت کریں گے اور ایسا ہوا بھی۔

سونی پکچرز نے ابتدا میں ان دھمکیوں کے بعد فلم ریلیز کرنے کا ارادہ ترک کر دیا تھا لیکن پھر ناقدین اور براک اوباما کی جانب سے بیانات کے بعد فلم دکھانے کا فیصلہ کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امریکہ نے پانچ دہائیوں کی سرد مہری کے بعد کیوبا سے سفارتی تعلقات بحال کرنے کا فیصلہ کیا

وائٹ ہاؤس کی جانب سے دی جانے والی یہ بریفنگ صدر اوباما کی جانب سے کیے جانے والے دیگر فیصلوں کے بعد منعقد ہوئی۔

گذشتہ دو ماہ کے دوران امریکی صدر نے ملک میں امیگریشن اصلاحات کا اعلان کیا جس سے تحت امریکہ میں مقیم قریباً 50 لاکھ غیر قانونی افراد ملک بدری سے بچ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے فیکٹریوں سے نکلنے والی گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے لیے قانون پر دستخط کیے اور امریکہ اور کیوبا کے پانچ دہائیوں کی سرد مہری کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے کے فیصلہ کیا۔

آخری چوتھائی کے دوران امریکی معیشت ترتی کرتی ہوئے گذشتہ 11 سالوں کے دوران ایسا پہلی بار پانچ فیصد تک پہنچ گئی۔

امریکی صحافی جان ایولون نے روزنامہ ڈیلی بیسٹ میں لکھا ہے کہ صدر براک اوباما نے اپنی پالیسی بدل دی ہے اور انھوں نے اب جارحانہ پالیسی اپنا لی ہے۔

جان ایولون کے مطابق صدر اوباما رپبلیکنز کی پالیسی سے متعلق تجاویز پر ردِ عمل ظاہر کرنے کی بجائے انھیں اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ ان کی پالیسی پر ردِ عمل ظاہر کریں۔ اگرچہ یہ زیادہ جارحانہ اقدام ہے اور قدرِ مشترکہ دریافت کرنا مشکل ہے، لیکن ایولون نے لکھا ہے کہ اوباما اس بات پر انحصار کر رہے ہیں کہ یہ بات رپبلکن پارٹی کے حق میں جاتی ہے کہ وہ مذاکرات کی میز پر رہیں۔

امریکہ میں آنے والا نیا سال اپنے ساتھ نئی سیاسی چیلنج بھی لائے گا جن میں گوانتانامو بے جیل کو بند کرنے اور ملک میں نئے ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ ساتھ نئی تجارتی پالیسی شامل ہیں۔

امید کی جا رہی ہے کہ نئے سال میں وائٹ ہاؤس اقتصادی تبدیلیوں پر زور دے گا جس کا مقصد مڈل کلاس افراد کی زندگیوں میں بڑی تبدیلی لانا ہے۔

اسی بارے میں