’بس ہمارے پاس یہی کچھ بچا ہے‘

رائنا اور مصطفیٰ تصویر کے کاپی رائٹ FAUZAN IJAZAM
Image caption دس سال پہلے سونامی میں رائنا نے اپنی والدہ اور بڑی بہن کھو دی تھیں

پہلی نظر میں دیکھنے سے رائنا انڈونیشیا کی دوسری 14 سالہ لڑکیوں کی طرح ہی لگتی ہے۔ شرمیلی اور فرشتہ خو، اس میں اب بھی وہ بچوں جیسی معصومیت ہے جو نو عمری میں قدم رکھتے ہی آتی ہے۔

ہماری ملاقات اتوار کو ہوئی کیونکہ رائنا اپنےامتحانات کی تیاری کر رہی تھی۔ اس کے والد مصطفیٰ نے مجھے بتایا کہ رائنا جماعت کی سب سے اچھی طالبات میں سے ایک ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں ہمیشہ اس سے کہتا ہوں کہ بہت محنت سے پڑھو۔ وہ ڈاکٹر بننا چاہتی ہے۔ میں جو کچھ بھی کرتا ہوں اس کے لیے کرتا ہوں۔ بس ہمارے پاس یہی کچھ بچا ہے۔‘

رائنا اور مصطفیٰ آچے میں آنے والی سونامی میں سے زندہ بچ جانے والوں میں سے ہیں۔ اس سونامی نے آچے اور ملک کے کئی حصوں کو تباہ کر دیا تھا۔ ان کی کہانی حیرت انگیز ہے۔

رائنا کہتی ہیں کہ ’اتوار کا دن تھا۔ میں اپنے خاندان والوں کے ساتھ بیٹھی تھی کہ میں نے شدید زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے۔‘

’کچھ دیر بعد ایک رکشے والا ہمارے گھر کے سامنے سے گزرا اور چلا کر کہا کہ سمندر سے پانی زمین پر آ رہا ہے! بھاگو۔‘

’ہم سب بھاگنے لگے۔ میں نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا لیکن وہ لہروں میں پھنس گئیں اور میں ان سے جدا ہو گئی۔ جب مجھے ہوش آیا تو میں اکیلی تھی، اور میرے گرد گندا پانی اور لاشیں تھیں۔‘

رائنا اس وقت چار برس کی تھی۔ اسے طالب علموں کے ایک گروہ نے بچایا اور ایک خاندان کے حوالے کر دیا جس نے اسے برطانوی خیراتی ادارے سیو دی چلڈرن کے حوالے کیا۔

اس نے اس کے بعد کبھی اپنی ماں یا بڑی بہن کو نہیں دیکھا۔

دریں اثنا رائنا کے والد جو کاروبار کے سلسلے میں شہر سے باہر تھے سونامی کی تباہی سے دو دن بعد واپس آئے۔ جو انھوں نے دیکھا وہ اب بھی ان کے دماغ میں ترو تازہ ہے۔

اپنے پرانے خاندانی گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا: ’وہاں کچھ نہیں بچا تھا۔ یہاں دیوار میں ایک بڑا سوراخ تھا جہاں سے پانی کنکریٹ کو پھاڑ کر اندر داخل ہوا۔

’میں واپسی پر ایک فوجی افسر سے ملا تھا جس نے مجھے بتایا تھا کہ آچے نیست و نابود ہو چکا ہے۔ میں یہ کبھی نہیں بھولوں گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انڈونیشیا کے علاقے بندا آچے میں سونامی سے سب سے زیادہ تباہی ہوئی

’میں جب گھر آیا تو میرا خیال تھا کہ سب ختم ہو چکا ہو گا، کوئی زندہ نہیں بچا ہو گا۔ بس صرف میں۔ میں لاشوں کے درمیان چلتا ہوا اندر آیا اور وہاں مجھے میرا بھائی ملا۔ مجھے بتایا گیا کہ میرا تمام خاندان ختم ہو چکا ہے۔‘

لیکن مصطفیٰ کو یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کی بیٹی ابھی زندہ ہے۔

رائنا نے کہا کہ ’والد نے مجھے بہت چھوٹی عمر سے ہی ہماری گلی کا نام، میرا نام، میرے والدین کا نام اور سب کچھ سکھایا تھا۔ سو جب سیو دی چلڈرن والوں نے مجھے پوچھا تو میں وہ سب دہراتی گئی: میرا نام رائنا ہے اور میرے والد کا نام مصطفیٰ۔ اور یہ اس وقت تک ہوتا رہا جب تک کہ میرے والد نے مجھے ڈھونڈ نہیں لیا۔‘

سیو دی چلڈرن نے سونامی کے بعد آچے میں کئی جگہ رائنا کی تصاویر لگائیں۔ تباہی کے تقریباً ایک ماہ بعد باپ اور بیٹی کا ملاپ ہوا۔

عدیل ساپترا اس وقت سیو دی چلڈرن کے ساتھ کام کرتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے رائنا کو چار افراد کی تصاویر دکھائیں جن میں مصطفیٰ بھی شامل تھے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ان میں سے تمہارا والد کون ہے تو اس نے ہر مرتبہ مصطفیٰ کی تصویر پر ہاتھ رکھا۔‘

’جب یہ دونوں ہمارے دفتر میں ملے تو وہ ایک بہت ہی جذباتی لمحہ تھا۔ مصطفیٰ اور رائنا خوب روئے۔ حقیقت میں ہم سب روئے۔ یہ تباہی کے فوراً بعد ملنے والے خاندانوں میں سے ایک تھے۔‘

لمپولو گاؤں میں جو شہر کے مرکز سے زیادہ دور نہیں ہے سونامی سے وابستہ ایک یادگار ہے۔

بندا آچے کے اس گاؤں میں نئے مکانوں کے درمیان ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ دو مکانوں کی چھت پر ایک 25 فٹ لمبی کشتی پڑی ہے۔

چھت پر یہ پڑی کشتی سیاحوں میں بہت مشہور ہے۔ اس جگہ ایک بورڈ بھی نصب ہے جس پر ’مکانوں پر کشتی‘ درج ہے جو سیاحوں کو اس مکان کا راستہ بتاتی ہے۔ اس بورڈ پر کہانی بھی درج ہے کہ کس طرح اس کشتی نے 59 افراد کی جان بچائی۔

گاؤں کے ایک عمر رسیدہ شخص سائپن بتاتے ہیں کہ جس دن سونامی ٹکرائی اس دن اس کشتی کی مرمت کی جا رہی تھی۔

’یہ چند کلو میٹر دور تک بہتی ہوئی آئی اور اس گھر کے قریب آ گئی۔ اس گھر کی چھت پر 59 لوگ پھنسے ہوئے تھے، جنھیں یقین تھا کہ وہ ڈوب جائیں گے۔ لیکن پھر یہ کشتی آئی اور وہ بچ گئے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گھروں کے اوپر پھنسی ہوئی اس کشتی نے 59 افراد کی جان بچائی تھی

رائنا کہتی ہیں کہ وہ بہت عرصے تک خوفزدہ رہیں: ’مجھے ہمیشہ ایسا لگتا کہ میں اپنے والد کو کھو دوں گی کیونکہ میں پہلے ہی سب کچھ کھو چکی تھی۔ لیکن پھر آپ اپنے ڈر پر قابو پا لیتے ہیں۔ مجھے اب ڈر نہیں لگتا۔‘

رائنا نے گذشتہ ایک دہائی میں اپنی والدہ اور بڑی بہن کے بغیر زندہ رہنا سیکھا۔

اس کے متعلق بات کرنا اس کے لیے اب بھی مشکل ہے۔ لیکن باپ بیٹی نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اپنی اپنی زندگیاں تعمیر کی ہیں۔

مصطفیٰ کہتے ہیں کہ ’ہم نے اس گھر کو دوبارہ بنایا اور اب ہم اس پلاٹ کو بیچنے کا سوچ رہے ہیں۔ اس سے آنے والے پیسے کے ساتھ ہم کسی اور جگہ منتقل ہونا چاہتے ہیں۔‘

اگرچہ مصطفیٰ نے دوسری شادی کر لی ہے لیکن اب بھی وہ اپنی پہلی بیوی کے متعلق بات کرتے ہوئے جذباتی ہو جاتے ہیں۔

’میں یہ سوچتا رہا کہ جس طرح رائنا مجھے مل گئی اس طرح میری بڑی بیٹی اور بیوی بھی آ جائیں گے۔ اگر ایک چار سالہ بچی بچ سکتی ہے تو وہ کیوں نہیں۔‘

اب باپ اور بیٹی نے اپنے آپ کو کسی ممکنہ دوسری تباہی سے محفوظ رکھنے کا طریقہ بھی بنایا ہے۔

مصطفیٰ نے کہا کہ کچھ سال پہلے جب میں کام پر تھا تو یہاں زلزلہ آیا۔ میرے باس نے کہا کہ رائنا کو دیکھنے گھر واپس نہ جانا، یہ خطرناک ہے۔ لیکن میں نے کہا کہ مجھے جانا ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ وہ وہاں ہو گی۔‘

’میں نے اسے بتایا ہوا ہے کہ اگر کوئی بڑا زلزلہ آیا تو موٹر سائیکل پکڑنا اور اونچے مقام کی طرف نکل جانا، ایک محفوظ جگہ پر جو ہم دونوں جانتے ہیں۔ جیسے ہی مجھے موقع ملا میں اسے ڈھونڈنے نکل پڑا اور وہ اسی جگہ موجود تھی۔‘

دس سال پہلے یاد کیا یہ تلخ سبق آچے کی آنے والی نسل میں زندہ رہے گا۔

اسی بارے میں