وینزویلا: دودھ کی قلت کے باعث مشہور آئس کریم سٹور بند

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption آئس کریم سٹور نے ابھی تک دوبارہ کاروبار شروع کرنے کے بارے میں نہیں بتایا ہے

وینزویلا میں دودھ کی قلت کے باعث اپنے ذائقوں کی سینکڑوں اقسام کی وجہ سے عالمی ریکارڈ یافتہ آئس کریم سٹور کو بند کر دیا گیا ہے۔

وینزویلا میں جاری معاشی بحران کے باعث کاروبار ٹھپ ہو رہے ہیں اور مہنگائی کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

آئس کریم پارلر مریددا میں واقع ہے اور یہ سیاحوں میں بھی بہت مقبول تھا۔یہاں 863 مختلف ذائقوں کی آئس کریم فروخت کی جاتی تھی۔

آئس کریم سٹور كوروموتو نے ہسپانوی زبان میں فیس بک پر ایک بیان میں کہا ہے کہ’ ہم سیزن کے دوران دودھ کی قلت کے باعث اپنا سٹور بند کر رہے ہیں۔‘

آئس کریم پارلر کا اپنے سینکڑوں ذائقوں کی وجہ سے گینز بک آف ریکارڈ میں نام درج ہے اور اس نے اپنے بیان میں پارلر کو دوبارہ کھولنے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔

وینزویلا میں حالیہ سالوں میں روز مرہ کے استعمال کی اشیا کی قلت دیکھنے میں آئی ہے جس میں دودھ کے علاوہ ٹوائلٹ پیپرز تک شامل ہیں۔

ملک میں جاری معاشی بحران کی وجہ سے صدر نیکولس مادورو کی مقبولیت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ صدر مادورو کے مطابق ان کے مخالفین نے ان کے خلاف’معاشی جنگ‘ شروع کر رکھی ہے۔

تاہم حزب مخالف الزام لگاتی ہے کہ صدر مادورو اور اس سے پہلے سابق صدر اوگو چاویس نے اپنے 15 سالہ دورِ اقتدار میں غلط اقدامات کی وجہ سے ملکی معیشت کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔