ایئر ایشیا کا طیارہ ’سمندر کی تہہ میں ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ر طیارے کی تلاش کی کارروائی میں درجنوں کی تعداد میں طیارے، ہیلی کاپٹر بحری جہاز اور کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔

امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ انڈونیشیا نے اس مسافر طیارے کی تلاش کے لیے مدد کی درخواست کی ہے جو انڈونیشیا سے سنگاپور جاتے ہوئے بحیرۂ جاوا کے اوپر لاپتہ ہوگیا تھا۔

اس اے 320 ایئر بس طیارے پر عملے کے ارکان سمیت 162 افراد سوار تھے اور اتوار کی صبح پرواز کے 45 منٹ بعد اس کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہوگیا تھا۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے حکام نے یہ نھیں بتایا ہے کہ ان سے کس قسم کی امداد کے لیے رابطہ کیا گیا ہے۔

انڈونیشیا کی فضائیہ اور سنگاپور کے جہازوں نے ملائیشیا کی نجی ہوائی کمپنی ایئر ایشیا کے لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے کی تلاش پیر کی شب اندھیرا ہونے پر روک دی اور اب منگل کو دوبارہ یہ آپریشن شروع ہوگا۔

سمندر میں مسافر بردار طیارے کی تلاش کی کارروائی میں درجنوں کی تعداد میں طیارے، ہیلی کاپٹر بحری جہاز اور کشتیاں حصہ لے رہی ہیں۔

انڈونیشیا کے امدادی ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دستیاب معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ جہاز سمندر کی تہہ میں ہو گا۔ تاہم طیارے کے حادثے کے بارے میں کوئی ٹھوس شواہد ابھی تک سامنے نہیں آ سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈونیشیا اور سنگاپور میں مسافروں کے لواحقین اپنے جذبات پر قابو پانے میں ناکام ہیں

سورابایا کے حکام نے کہا ہے کہ امدادی ٹیمیں اب بحیرۂ جاوا پہنچی ہیں۔ خدشہ ہے کہ جہاز یہاں پر حادثے کا شکار ہو کر ڈوب گیا تھا۔

اتوار کو انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور ایئر ایشیا انڈونیشیا کے مسافر بردار طیارے کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا تھا۔

انڈونیشیا کی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ بامبانگ سوئلیستیو نے کہا: ’ہمیں جو کوآرڈینیٹس دیے گئے ہیں، ان کے تجزیے سے یہ مفروضہ قائم کیا گیا ہے کہ جہاز سمندر کی تہہ میں ہو گا۔

’یہ ابتدائی اندازہ ہے، اور یہ تلاشی کی کارروائیوں کی دوران تبدیل ہو سکتا ہے۔‘

کمپنی کے بیان کے مطابق جہاز پر 17 بچوں سمیت 155 مسافر سفر کر رہے تھے، اس کے علاوہ دو پائلٹ اور عملے کے پانچ دوسرے ارکان بھی جہاز پر سوار تھے۔

جہاز پر چھ غیرملکی بھی سوار ہیں، جن میں سے تین کا تعلق جنوبی کوریا سے اور ایک ایک کا فرانس، ملائیشیا اور سنگاپور سے ہے۔

ایئر ایشیا نے کہا ہے کہ صبح 7:24 پر اڑنے کے 45 منٹ بعد ایئر بس اے 200-320 کا رابطہ ایئر ٹریفک کنٹرول سے منقطع ہو گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امدادی ٹیمیں بحیرۂ جاوا پہنچی ہیں جہاں خدشہ ہے کہ جہاز حادثے کا شکار ہو کر ڈوبا ہے

ٹرانسپورٹ اہلکار ہادی مصطفیٰ نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ لاپتہ ہونے سے قبل طیارے نے مقررہ راستے سے ہٹ کر ایک اور راستے پر جانے کی اجازت طلب کی تھی، جب کہ کمپنی نے کہا ہے کہ جہاز نے خراب موسم کی وجہ سے اپنی پرواز کے راستے میں تبدیلی کی درخواست کی تھی۔

انڈونیشیا کے وزارتِ ٹرانسپورٹ نے کہا کہ جہاز کے پائلٹ نے درخواست کی تھی جہاز کو 38 ہزار فٹ کی بلندی پر بادلوں کے اوپر پرواز کرنے کی اجازت دی جائے۔ تاہم جہاز کے عملے نے کسی خرابی کی کوئی اطلاع نہیں دی۔

انڈونیشیا کی وزارتِ ٹرانسپورٹ کے مطابق: ’ہمارا بنیادی ہدف طیارے کو تلاش کرنا ہے اور ہر ممکنہ محکمے اور متعلقہ ممالک سے رابطے میں ہیں۔ اس میں جہاز کا ڈیزائن تیار کرنے والے شعبے کے اہلکار، جہاز تیار کرنے والی فرانسیسی کمپنی کے اہلکار، ایئر ایشیا اور ملائیشیا کے آپریشنل اہلکار شامل ہیں۔‘

بامبانگ سوئلیستیو کے مطابق انڈونیشیا کے 12 بحری جہاز، تین ہیلی کاپٹر اور پانچ فوجی ہوائی جہاز ریسکیو کارروائی میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملائیشیا نے ایک سی ون تھرٹی جہاز، تین بحری جہاز مہیا کیے ہیں جبکہ سنگاپور کا ایک سی وی تھرٹی جہاز بھی شامل ہے اور آسٹریلیا بھی جہاز کو تلاش کرنے میں مدد کر رہا ہے۔

سنیچر کو یہ جہاز ملائیشیا کی کمپنی ایئر ایشیا کی ذیلی کمپنی ایئر ایشیا انڈونیشیا کی ملکیت ہے اور انڈونیشیا ہی میں رجسٹرڈ ہے جو مسافروں کو سستی پروازیں فراہم کرتی ہے۔ جہاز کی پرواز کا دورانیہ تین گھنٹے تھا لیکن یہ تقریباً ایک گھنٹے کے بعد غائب ہو گیا۔

اس سال ملائیشیا کی سرکاری ہوائی کمپنی ملائیشیا ایئرلائن کے دو طیارے حادثات کا شکار ہو چکے ہیں۔ البتہ اس سے پہلے ایئرایشیا کے کسی طیارے کو کوئی بڑا حادثہ پیش نہیں آیا۔

مارچ میں ملائیشیا ایئرلائن کی پرواز ایم ایچ 370 جکارتہ سے بیجنگ جاتے ہوئے لاپتہ ہو گئی تھی اور اس کا آج تک سراغ نہیں ملا۔ اس طیارے پر 239 افراد سوار تھے۔ جب کہ پرواز ایم ایچ 17 جولائی میں یوکرین کے اوپر سے اڑتے وقت مار گرائی گئی تھی، جس سے اس پر سوار تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

اسی بارے میں