بیت اللحم ۔ جہاں کرسمس تین مرتبہ منائی جاتی ہے

بیت لحم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بیت لحم عیسائیوں کے سب سے مقدس ترین مقامات میں سے ایک ہے

ویسے تو کرسمس سال میں ایک مرتبہ ہی آتی ہے لیکن اگر آپ بیت اللحم میں ہیں تو پھر آپ اسے لگاتار تین مرتبہ مناتے ہیں۔

بیت اللحم میں عرب وومنز یونین کے بنگو مقابلے میں کوئی ’لیگز الیون‘ یا ’ٹو فیٹ لیڈیز‘ نہیں پکارتا۔ اور اس برطانوی کھیل میں یہاں ایک اور فرق بھی ہے۔ انعام میں کیش کی بجائے یہاں گھریلو استعمال جیسے واشنگ پاؤڈر، ٹوائلٹ رولز اور اگر قسمت آپ کے ساتھ ہے تو الیکٹرک کمبل بھی مل جاتا ہے۔

بنگو یہاں گھریلو خواتین کا ہمیشہ سے پسندیدہ کھیل رہا ہے لیکن یونین کی ہفتہ وار میٹنگ میں یہ ایک چیریٹی (خیراتی ادارے) کے لیے چندہ جمع کرنے کے لیے کھیلا جاتا ہے۔

کرسمس کے قریب قریب وہ ضرورت مند بچوں کے لیے ایک دعوت کرتے ہیں۔ درجنوں مقامی بچوں کو مسخرے کرتب دکھاتے ہیں، مفت کھانا دیا جاتا ہے اور گھر لے جانے کے لیے چھوٹے موٹے تحفے تحائف بھی ملتے ہیں۔

عورتوں کی یونین کی عیسائی اراکین سمجھتی ہیں کہ کرسمس کے دوسروں کے لیے ہمدردی اور امید کے پیغام کو زندہ رکھنا ان کی خصوصی ذمہ داری ہے۔

یونین کی صدر ورجینیک کاناواتی کہتی ہیں کہ ’کرسمس ہمارے شہر کا اور ہمارا قومی تہوار ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بیت لحم میں موجود چرچ آف نیٹیوٹی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ یہاں پیدا ہوئے تھے

وہاں ایک اور خاتون سوسی نصر نے کہا کہ ’یہ کرسمس نہیں ہے کہ آپ گھر میں اپنے خاندان کے ساتھ خوشیاں منائیں اور آپ کے ہمسائے کے پاس کچھ نہ بھی ہو۔‘

’بیت اللحم میں بہت غربت ہے۔ غربِ اردن میں یہ وہ جگہ ہے جہاں سب سے زیادہ بے روز گاری ہے اور لوگوں کو ہر ایک پینی (پیسہ) خرچ کرنے سے پہلے بھی سوچنا پڑتا ہے۔‘

کھانے پینے اور نئے کپڑے پہننے کے علاوہ یہاں جو فرق ہے وہ یہ ہے کہ یہاں کرسمس کی تقریبات ذرا لمبی چلتی ہیں۔ بیت اللحم میں ایک دن کرسمس منانے کی بجائے تین مختلف <span >دن منائی جاتی ہے۔

کیتھولکس 25 دسمبر کو منائی جانے والی کرسمس سے پہلے یروشلم سے حضرت عیسیٰ کی جائے پیدائش چرچ آف نیٹیوٹی تک روایتی جلوس نکالتے ہیں۔

لیکن اب گریک آرتھوڈوکس یا یونانی بنیاد پرست زیادہ توجہ حاصل کر رہے ہیں، جو کہ فلسطینی عیسائیوں میں اکثریت میں ہیں۔ ان کا کرسمس کا دن 7 جنوری ہے۔

اس 13 دن کے فرق کی تفصیل کیلینڈر بتاتے ہیں۔ اگرچہ لاطینی چرچ 16 ویں صدی میں پوپ گریگری کے گریگورین کیلینڈر کو سامنے رکھتے ہوئے کرسمس مناتا ہے لیکن مشرقی آرتھوڈوکس چرچز اب بھی 45 قبلِ مسیح کو جولیس سیزر کے دور میں ایجاد کیے گئے جولین کیلینڈر کی پیروی کرتے ہیں۔

لیکن اس مقدس زمین پر ایسے لوگ بھی ہیں جو اس سے بھی زیادہ کرسمس کا انتظار کرتے ہیں اور وہ ہیں آرمینیائی۔ جن کی پریڈ 18 جنوری تک چلتی ہے۔

ہر کرسمس سے پہلے کی شام کو بیت اللحم چرچ کے بڑوں اور پادریوں کو ميدان المھد میں داخل ہونے پر خوش آمدید کہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کرسمس کے موقع پر بیت لحم کو بہت زیادہ سجایا جاتا ہے

چاکلیٹ کھاتے اور سہلاب کی چسکیاں لیتے ہوئے اس ہجوم کو مارچ کرتا ہوا بینڈ محضوظ کرتا ہے۔ بیت اللحم سے متصل شہر بیت جالا میں سکاؤٹس ڈرمز اور بینڈ باجتے رہتے ہیں۔ برطانوی دور میں متعارف کی جانے والی سکوائٹنگ یہاں لڑکیوں اور لڑکوں میں کافی مقبول ہے۔

بہت سے فلسطینی عیسائی اپنے آپ کو کرسمس اور اس کی رنگا رنگ روایتوں کا امین سمجھتے ہیں۔ بیت جالا کے ورجن میری چرچ میں فادر جارج کہتے ہیں کہ سال کا یہ وقت بہت زیادہ روحانی اور سیاسی اہمیت رکھتا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب ہم تقریبات مناتے ہیں تو ہم دنیا کو بتاتے ہیں کہ بیت اللحم ایک پرامن اور محفوظ شہر ہے۔‘

’یہ کرائسٹ (حضرت عیسٰی) کی جائے پیدائش ہے اور ہم دنیا کا سب سے پرانا مذہبی اجتماع کرتے ہیں۔ اگر ہم نے اپنے درختوں پر روشنیاں نہ کیں اور سجاوٹیں نہ لٹکائیں تو ہم ختم ہو جائیں گے۔‘

اسی بارے میں