جنوبی کوریا کی شمالی کوریا کو مذاکرات کی دعوت

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جنوبی کوریا کے اتحاد کے وزیر رییو کیہل جائے نے ایک پریس کانفرنس میں یہ پیشکش کی

جنوبی کوریا نے پرامن اتحاد کے لیے شمالی کوریا کو آئندہ ماہ مختلف مسائل پر اعلیٰ سطحی مذاکرات کی باضابطہ پیشکش کی ہے۔

جنوبی کوریا کے اتحاد کے وزیر رییو کیہل جائے نے کہا کہ وہ ان مذاکرات سے ان خاندانوں کے ملن کے بارے میں بات چیت کرنے کی امید کرتے ہیں جو 60 سال سے بھی زیادہ عرصے قبل ہونے والی جنگ میں علیحدہ ہو گئے تھے۔

تاہم ابھی تک شمالی کوریا کی جانب سے اس پر کسی قسم کا رد عمل سامنے نہیں آيا ہے۔

شمالی کوریا اس سے قبل جنوبی کوریا کی جانب سے پیش کیے جانے والے وحدت کے منصوبے کو شمالی کوریا کو ہڑپ لینے کے منصوبے کے طور پر بیان کرتا رہا ہے۔

اتحاد کے وزیر رییوو نے ایک نیوز کانفرنس کو بتایا: ’شمالی اور جنوبی کوریا کو پرامن اتحاد کے بارے میں منصوبہ بنانے کے لیے آمنے سامنے مل کر بیٹھنا چاہیے۔‘

انھوں نے کہا: ’اس مقصد کے لیے ہم آئندہ ماہ جنوری میں مشترکہ مسائل پر باہمی گفتگو کے لیے شمالی کوریا کی حکومت کو بات چیت کی باضابطہ دعوت دیتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اس سے قبل اس ضمن میں اعلیٰ سطحی مذاکرات رواں سال فروری میں ہوئے تھے جس کے نتیجے میں بعض کوریائی خاندان کا ملن ہوا تھا

انھوں نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ شمالی کوریا اس پیشکش کا ’مثبت جواب‘ دے گا۔

انھوں نے کہا کہ وہ سیول، پیونگ یانگ یا پھر شمالی یا جنوبی کوریا کے کسی بھی شہر میں بات کرنے کے لیے تیار ہیں جہاں شمالی کوریا کے اہلکار بات کرنا چاہیں۔

اس سے قبل اس ضمن میں اعلیٰ سطحی مذاکرات رواں سال فروری میں ہوئے تھے جس کے نتیجے میں بعض کوریائی خاندان کا ملن ہوا تھا۔

اس طرح کی مزید بات چیت اکتوبر میں ہونی تھی لیکن شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر یہ الزام لگاتے ہوئے اسے ختم کر دیا کہ جنوبی کوریا اپنے کارکنوں کو روکنے کے لیے زیادہ کوشش نہیں کر رہا ہے جو شمالی کوریا مخالف پرچے غباروں کے ذریعے شمالی کوریا میں بھیجتے رہتے ہیں۔

واضح رہے کہ دونوں کوریا تکنیکی طور پر سنہ 53-1950 کی کوریائی جنگ کے بعد سے حالتِ جنگ میں ہیں۔ البتہ ان کے درمیان باضابطہ امن معاہدے کے بجائے عارضی صلح ضرور ہے۔

اسی بارے میں