فلسطین جرائم کی عالمی عدالت کی رکنیت کا خواہاں

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فلسطینی صدر محمود عباس کے تازہ اقدام کو اقدام کو فلسطین کے آئی سی سی کا حصہ بننے کے سلسلے میں پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے

فلسطین نے جرائم کی عالمی عدالت کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے کوششوں کا آغاز کر دیا ہے۔

اس سلسلے میں فلسطینی صدر محمود عباس نے رام اللہ میں ’روم سٹیچیوٹ‘ پر دستخط بھی کر دیے ہیں۔ یہ معاہدہ انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے قیام کے وقت عمل میں لایا گیا تھا۔

جرائم کی عالمی عدالت کی رکنیت ملنے پر فلسطین اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے مقدمات دائر کر سکے گا۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم نے فلسطین کی اس کوشش کی مذمت کی ہے۔

فلسطین کی جانب سے جرائم کی عالمی عدالت کی رکنیت کے حصول کا اعلان اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل سے تین برس میں فلسطینی علاقے خالی کرنے کے مطالبے پر مبنی قرارداد مسترد کیے جانے کے فوری بعد سامنے آیا ہے۔

فلسطینی صدر نے بدھ کو رام اللہ میں 20 مختلف معاہدوں پر دستخط کیے جن میں جرائم کی عالمی عدالت کو تسلیم کرنے کا معاہدہ بھی شامل تھا۔

اس اقدام کو فلسطین کے آئی سی سی کا حصہ بننے کے سلسلے میں پہلا قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

اس موقع پر محمود عباس کا کہنا تھا کہ ’ہم شکایت کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں اپنے اور اپنی سرزمین کے خلاف جارحیت کا سامنا ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’سلامتی کونسل نے ہمیں مایوس کیا ہے۔‘

خیال رہے کہ محمود عباس نے رواں برس ستمبر میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں اسرائیل پر غزہ میں ’نسل کشی‘ کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس معاملے کو جرائم کی عالمی عدالت میں لے جائیں گے۔

اسرائیل جرائم کی عالمی عدالت کا رکن نہیں اور نہ ہی اس کے دائرۂ کار کو تسلیم کرتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو نے فلسطین کے تازہ اقدام پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیل ’جوابی کارروائی کرے گا اور اپنے فوجیوں کا دفاع کرے گا۔‘

نتن یاہو نے ایک بیان میں کہا کہ ’یہ فلسطینی اتھارٹی ہے جس نے ایک دہشت گرد گروپ حماس سے مل کر حکومت بنائی ہے۔ حماس دولتِ اسلامیہ کی مانند جنگی جرائم کا ارتکاب کرتی ہے اور یہ معاملہ ہیگ میں جرائم کی عالمی عدالت کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔‘

اسرائیل کے قریبی حلیف امریکہ کے محکمۂ خارجہ کی جانب سے بھی اس سلسلے میں ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں فلسطینی اعلان کو حالات مزید بگاڑنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک میں بات چیت پی امن کے حصول کا حقیقی راستہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’آج کا قدم مکمل طور پر نقصان دہ ثابت ہوگا اور یہ کسی طریقے سے فلسطینی عوام کے خودمختار اور آزاد ریاست کے قیام کی کوششوں کے لیے مددگار نہیں۔‘

فلسطین کے جرائم کی عالمی عدالت کا رکن بننے کے امکانات 2012 میں اس وقت روشن ہوگئے تھے جب جنرل اسمبلی نے اس کا درجہ بڑھا کر’غیر رکن مبصر ریاست‘ کر دیا تھا۔

جرائم کی عالمی عدالت کی رکنیت ملنا تو لازمی نہیں لیکن نامہ نگاروں کے مطابق محمود عباس کا یہ فیصلہ انتہائی سیاسی بنیادوں پر کیا گیا ہے اور یہ ایک استعارہ ہے۔

اسی بارے میں