شنگھائی: نئے سال کی تقریب میں بھگدڑ، 36 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس حادثے کے عینی شاہدین نے سوشل میڈیا پر بھی اپنے تاثرات درج کیے ہیں

چینی ذرائع ابلاغ کے مطابق شنگھائی میں نئے سال کی تقریب میں بھگدڑ مچنے سے 36 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی شن ہوا کے مطابق یہ بھگدڑ شہر کے ہوانگ پو ڈسٹرکٹ میں واقع چین یی سکوائر میں بدھ کی شب مچی۔

شنگھائی کی شہری حکومت کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ رات 11 بج کر 35 منٹ پر اس وقت پیش آیا جب عوام کی بڑی تعداد دریا کے کنارے سنہ 2015 کے استقبال کی تقریب میں شرکت کے لیے جمع تھی۔

حکام کا کہنا ہے کہ بھگدڑ سے 47 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں اور حالات سنبھالنے کے لیے ایک ورکنگ گروپ قائم کر دیا گیا ہے۔

سرکاری میڈیا کے مطابق مرنے والوں میں بڑی تعداد میں طلبہ تھے اور ان میں 25 خواتین بھی شامل تھیں۔

تاحال بھگدڑ مچنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے تاہم خبر رساں ادارے روئٹرز نے چین کے سرکاری میڈیا کے حوالے سے کہا ہے کہ بھگدڑ اس وقت شروع ہوئی جب ہجوم میں شامل افراد نے ایک عمارت سے پھینکے جانے والے نقلی کرنسی نوٹ جمع کرنے کی کوشش کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حادثے میں زخمی ہونے والے بیشتر افراد کو شنگھائی جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے

اس واقعے کے بعد چینی پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور علاقہ خالی کروایا۔

چینی خبر رساں ادارے کے مطابق اس حادثے میں زخمی ہونے والے بیشتر افراد کو شنگھائی جنرل ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔

اس واقعے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر اس سے متعلق تصاویر گردش کرنے لگی ہیں جن میں سڑک پر پڑے لوگوں کو طبی امداد لیتے اور پولیس کی بھاری نفری کو علاقے میں دیکھا جا سکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس حادثے کے عینی شاہدین نے بھی اپنے تاثرات درج کیے ہیں۔ ویئبو پر ایک خاتون صارف نے لکھا ہے ’وہاں واقعی بہت زیادہ لوگ تھے۔ جب آپ دب جائیں تو آپ الگ نہیں ہو پاتے صرف ہجوم کے ساتھ ساتھ حرکت کرتے ہیں۔‘

ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ موقع پر موجود ٹریفک پولیس نے بھگدڑ مچنے کے بعد انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کر لوگوں کو الگ رکھنے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔

شنگھائی کی پولیس نے بھی اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر واقعے کے بارے میں لکھا تھا کہ کچھ ’سیاح‘ بند کے علاقے میں ایک دوسرے پر گر گئے ہیں۔ پولیس نے عوام سے منظم انداز میں یہ علاقہ خالی کرنے کو بھی کہا تھا۔

اسی بارے میں