’فلسطین سے اسرائیلی انخلا کے نظام الاوقات کی قرارداد مسترد‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption قرارداد کے حق میں آٹھ اور مخالفت میں دو ووٹ پڑے جبکہ پانچ ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اسرائیل سے تین برس میں فلسطینی علاقے خالی کرنے کے مطالبے پر مبنی قرارداد مسترد کر دی ہے۔

15 رکنی سلامتی کونسل میں یہ قرارداد اردن کی جانب سے پیش کی گئی اور اس سے قبل اس پر 22 عرب ممالک اور فلسطینی انتظامیہ نے منظور کیا تھا۔

اسرائیل اور فلسطین کا تنازع کیا ہے؟ دیکھیے ویڈیو رپورٹ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

منگل کو پیش کی جانے والی قرارداد کو منظوری کے لیے نو ووٹ درکار تھے مگر اس کی حمایت میں آٹھ ووٹ ہی پڑ سکے۔

قرارداد کی حمایت کرنے والے ممالک میں فرانس، چین، روس، ارجنٹائن، چاڈ، چلی، اردن اور لگزمبرگ شامل تھے۔

امریکہ اور آسٹریلیا نے اس قرارداد کی مخالفت کی جبکہ پانچ ممالک برطانیہ، لیتھوینیا، نائجیریا، جمہوریہ کوریا اور روانڈا نے ووٹنگ میں حصہ ہی نہیں لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption قرارداد میں مشرقی یروشلم کو مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالخلافہ قرار دیا گیا تھا

اگر یہ قرارداد منظوری کے لیے درکار نو ووٹ حاصل کر بھی لیتی تب بھی امریکہ کی مخالفت کی وجہ سے اس کی منظوری ناممکن تھی۔

امریکہ کو سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے ویٹو کی طاقت حاصل ہے اور صرف اس کی مخالفت پر بھی سلامتی کونسل اس قرارداد کو منظور نہیں کر سکتی تھی۔

اسرائیل کے قریبی حلیف ہے امریکہ نے قرارداد پر رائے شماری سے قبل ہی کہا تھا کہ وہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ چاہتا ہے لیکن وہ کسی لاگو شدہ نظام اولاقات کا حامی نہیں۔

ادھر اسرائیل نے اس قرارداد کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’شعبدہ‘ قرار دیا ہے۔

اس قرارداد میں اسرائیل سے حتمی امن منصوبے پر بات چیت کے لیے ایک سال کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی اور اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ وہ 2017 کے اختتام پر مقبوضہ فلسطینی علاقے خالی کر دے۔

قرارداد میں نئے مذاکرات ان علاقائی خطوط کی بنیاد پر کرنے کی بات کی گئی تھی جو اسرائیل کے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں غربِ اردن، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی پر قبضے سے قبل موجود تھے۔

.

اسی بارے میں