ایئرایشیا حادثہ: ایک مسافر کی تدفین، خراب موسم ملبے کی تلاش میں رکاوٹ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تباہ شدہ طیارے کے عملے کی رکن حیاتی لطفیہ حامد کو ان کے آبائی علاقے میں سپردِ خاک کیا گیا

انڈونیشیا میں نجی فضائی کمپنی ایئر ایشیا کی پرواز QZ8501 کے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

یہ طیارہ اتوار کی صبح انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور جاتے ہوئے دورانِ پرواز لاپتہ ہو گیا تھا اور دو دن بعد اس کا ملبہ بحیرۂ جاوا سے ملا تھا۔

اس طیارے پر کل 162 افراد سوار تھے جن میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکا تاہم اب تک امدادی کارکن سمندر سے مجموعی طور پر صرف نو لاشیں نکالنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

بحیرۂ جاوا سے نکالی جانے والی لاشیں سورابایا لے جائی گئی ہیں جہاں ان کے لواحقین ان کی شناخت کرنے اور ڈی این اے کے نمونے دینے کے اکٹھے ہوئے ہیں۔

ان نو میں سے اب تک صرف ایک فرد کی شناخت ہو سکی ہے جو عملے کی رکن حیاتی لطفیہ حامد تھیں۔

49 سالہ حیاتی حامد کی لاش منگل کو ملی تھی اور ان کا تعلق سورابایا سے ہی تھا۔

مشرقی جاوا میں آفات سے نمٹنے کے ادارے کے افسر کرنل بودیونو کا کہنا ہے کہ حیاتی کی شناخت ان کی انگلیوں کے نشانات اور دیگر ذرائع سے کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سورابایا میں اس حادثے میں ہلاک ہونے والے افراد کے لیے ماتمی تقریب منعقد کی گئی

انھیں جمعرات کو ان کے آبائی علاقے میں سپردِ خاک کیا گیا اور ان کے جنازے میں لواحقین اور رشتہ داروں کے علاوہ عام شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔

جمعرات کو ہی امدادی کارکنوں نے سمندر سے مزید دو لاشیں نکالیں جبکہ اس سے قبل منگل کو تین اور بدھ کو چار افراد کی لاشیں نکالی گئی تھیں۔

توقع کی جا رہی تھی کہ جمعرات کو اچھے موسم کے باعث ملبے اور لاشوں کی تلاش میں مدد ملے گی لیکن موسم نے ساتھ نہ دیا۔

جمعرات کو صبح موسم بہتر تھا جس کی وجہ سے حکام نے توقع ظاہر کی تھی کہ طیارے کا فیوزیلاژ (جہاز کا وہ حصہ جہاں لوگ بیٹھتے ہیں) ڈھونڈ لیا جائے گا، تاہم چند گھنٹوں کے اندر اندر موسم ایک بار پھر خراب ہو گیا۔

تلاشی مہم کے ایک عہدے دار تتانگ زین الدین نے کہا: ’بادل امڈ کر آئے اور موسم پھر خراب ہوتا گیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption توقع کی جا رہی تھی کہ جمعرات کو اچھے موسم کے باعث ملبے اور لاشوں کی تلاش میں مدد ملے گی لیکن موسم نے ساتھ نہ دیا۔

سمندر میں تلاطم کی وجہ سے غوطہ خور جہاز کے ڈوبنے کے مقام کا جائزہ نہیں لے پائے۔

بورنیو جزیرے پر واقع شہر پنگ کلان بن میں تلاش کی مہم کے سربراہ سوناربووو سینڈ نے کہا کہ ’اس بات کا امکان ہے کہ فیوزیلاژ میں لاشیں پڑی ہوں۔ اب وقت اور موسم کے خلاف جنگ جاری ہے۔‘

بحریہ کے افسر سیاہالا المسیاہ نے کہا کہ بدھ کی رات برے موسم اور اونچی لہروں کی وجہ سے انڈونیشیائی بحریہ کے 50 کی قریب غوطہ خور حادثے کے مقام تک نہیں پہنچائے جا سکے تھے۔

جہاز پر 137 بالغ مسافر، 17 بچے اور ایک شیرخوار بچے کے علاوہ دو پائلٹ اور عملے کے پانچ ارکان سوار تھے۔ ان کی اکثریت کا تعلق انڈونیشیا سے تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بحیرۂ جاوا سے نکالی جانے والی لاشیں سورابایا لے جائی گئی ہیں

ادھر بعض تفتیش کاروں نے کہا ہے کہ ممکنہ طور پر جب پائلٹ نے طوفان سے بچنے کے لیے تیزی سے بلندی پر جانے کی کوشش کی تو جہاز کا انجن بند ہو گیا اور وہ گرنا شروع ہو گیا۔

روئٹرز نے حکام کے حوالے سے خبر دی ہے کہ جہاز 32 ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کر رہا تھا اور اس نے خراب موسم سے بچنے کے لیے 38 ہزار فٹ کی بلندی پر جانے کی اجازت مانگی تھی۔

ایئر کنٹرول نے پائلٹ کو 34 ہزار فٹ تک جانے کی اجازت دی مگر پھر جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جہاز نے ’ناقابلِ یقین‘ تیزی سے اوپر چڑھنے کی کوشش کی، جو ایئربس A320 طیارے کی استعداد سے باہر تھا۔

اسی بارے میں