الجزیرہ کے صحافیوں پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ان صحافیوں پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھوں نے مصر کی ممنوعہ تنظیم اخوان المسلمین کی مدد کی تھی

مصر کی اعلیٰ عدالت نے غلط خبریں پھیلانے کے الزام میں جیل میں قید الجزیرہ کے تین صحافیوں پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا ہے۔

یہ فیصلہ قاہرہ میں پیٹر گریسٹا، محمد فہمی اور بحر محمد کی اپنی سزایابی کے خلاف اپیل کی سماعت کے بعد سنایا گیا۔

وکلائے صفائی کے مطابق استغاثہ نے تسلیم کیا ہے کہ اس سے قبل دیے گئے فیصلے میں بڑے مسائل موجود تھے۔ نیا مقدمہ ایک ماہ کے اندر اندر شروع ہو جائے گا لیکن اس عرصے کے دوران تینوں کو حراست ہی میں رہنا ہو گا۔

صحافیوں نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ ان کے ممنوعہ تنظیم اخوان المسلمین سے تعلقات تھے۔ انھوں نے کہا ہے کہ وہ صرف خبریں دے رہے تھے۔

2013 میں مصری فوج کی جانب سے سابق صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد ان صحافیوں پر اخوان کی مدد کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

پیٹر گریسٹا کا تعلق آسٹریلیا سے ہے، اور وہ بی بی سی کے سابق نامہ نگار ہیں، جب کہ ان کے پروڈیوسر محمد فہمی کے پاس مصر اور کینیڈا کی شہریت ہے۔

تینوں صحافی دسمبر 2013 میں گرفتار کیے جانے کے بعد سے ایک سال سے زیادہ کا عرصہ جیل میں گزار چکے ہیں۔

ججوں نے اپنے فیصلے میں کہا کہ تینوں کو نیا مقدمے کے آغاز تک جیل ہی میں رکھا جائے۔

جمعرات کو عدالت نے مقامی وقت کے مطابق صبح نو بجے سماعت شروع کی، جو آدھا گھنٹہ جاری رہی۔

صحافیوں کو عدالت میں جانے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی ملزم عدالت میں موجود تھے۔

قاہرہ میں بی بی سی کی اورلا گیرن نے کہا ہے کہ یہ مقدمہ مصر کی شبیہ کے لیے بہت نقصان دہ رہا ہے اور حکام اسے جلد نمٹانا چاہتے ہیں۔

ہماری نامہ نگار کے مطابق الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل قطر کی ملکیت ہے اور حال ہی میں قطر اور مصر کے تعلقات میں نرمی پیدا ہوئی ہے، جس کی وجہ سے امیدیں بڑھی ہیں کہ بالآخر ان صحافیوں کو چھوڑ دیا جائے گا۔

صدر السیسی نے ماضی میں کہا تھا کہ ان صحافیوں پر مقدمہ چلانے کی بجائے اگر انھیں ملک بدر کر دیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔

حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ صحافیوں پر دوبارہ مقدمہ چلانے کا مقصد ان کی غیر مشروط رہائی ہونا چاہیے۔

جمعرات کو جاری کیے گئے ایک بیان میں مشرق وسطیٰ کے لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ڈپٹی ڈائریکٹر حسیبہ ہڈصحروئی کا کہنا تھا کہ ان صحافیوں کے مقدمے کی سماعت ’مضحکہ خیز‘ تھی اور ان کا جرم یہ صرف یہ تھا کہ انہوں نے مصر میں حکمرانوں کے سیاسی مؤقف کو چیلنج کرنے کی کوشش کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ مصر کے حکام مقدمے کی دوبارہ سماعت کر کے معاملے کو طول دینا چاہتے ہیں، ان صحافیوں کو ایک دن میں بھی جیل میں نہیں گزارنا چاہئیے تھا۔

حسیبہ ہڈصحروئی نے مصر کے حکام سے مطالبہ کیا کہ ان صحافیوں کی ’غیر قانونی حراست‘ کو فوراً ختم کر کے ان کی رہائی کے احکامات جاری کئیے جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مصر کی عدالتیں سکیورٹی فورسز کے ان حکام کو تو سزائیں نہیں دے رہے ہیں جو کہ انسانی حقوق کی پامالی میں ملوث ہیں لیکن اپنی ساری توانائیاں حکومت کے ناقدین اور حکومت مخالف سیاسی قائدین کو سزائیں دینے پر صرف کر رہی ہیں۔

اسی بارے میں