2015 میں ایبولا کی وبا ختم ہو جائےگی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس وائرس سے اب تک تقریباً 8،000 افراد ہلاک ہوے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ایبولا مشن کے سبکدوش ہونے والے سربراہ نے کہا ہے کہ ایبولا کی وبا 2015 میں ختم ہو جائے گی۔

انتھونی بینبر کا کہنا ہے کہ ’اس سال کے آخر تک ایبولا کے کیسسز کی کی تعداد صفر ہو جائے گی۔‘ مگر انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ اس مہلک مرض کو قابو میں لانے کے لیے بہت محنت کر نی پڑے گی۔

اس وائرس سے اب تک تقریباً آٹھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور سیئرالیون، لائبیریا اور گنی سب سے ذیادہ متاثر ہونے والے ممالک ہیں۔

انتھونی بینبر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ان کا مشن 100 فیصد محفوظ تدفین اور 70 فیصد متاثرہ افراد کے علاج کے ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے ایبولا کے خلاف بین الاقوامی کوششوں کی تعریف کی اس بات پر اصرار کیا کہ ایبولا کے بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات انتہائی کامیاب رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق لائبیریا، سیئرالیون اور گنی میں ایبولا وائرس سے متاثر کی تعداد 20000 سے تجاوز کر گئی ہے اور سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک گنی ہے۔

یاد رہے کہ ایبولا وائرس متاثرہ شخص کی جسمانی رطوبتوں کے ذریعے دوسرے لوگوں تک پھیل سکتا ہے۔ اس سے ابتدا میں زکام جیسی علامات ظاہر ہوتی ہیں اور بعد میں آنکھوں اور مسوڑھوں سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے۔ جسم کے اندر خون جاری ہو جانے سے اعضا متاثر ہو جاتے ہیں۔ وائرس سے متاثرہ 90 فیصد تک لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں۔

اسی بارے میں