ترک کردہ بحری جہاز اٹلی پہنچ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ Icelanding Coast Guard
Image caption عزالدین 50 سال پرانا مال بردار جہاز تھا جسے انسانی سمگلر تارکینِ وطن کو یورپ پہنچانے کے لیے استعمال کر رہے تھے

اٹلی کے کوسٹ گارڈز نے کہا ہے کہ وہ بحری جہاز اٹلی کی کوریلیانو کلابرو بندرگاہ پہنچ گیا ہے جس پر 360 تارکینِ وطن سوار تھے اور جسے اس کے عملے نے بےیار و مددگار چھوڑ دیا تھا۔

اس سے قبل ایک مسافر کی طرف سے وائرلیس پر ہنگامی پیغام بھیجے جانے کے بعد امدادی کارکن اس وقت ’عزالدین‘ نامی اس جہاز تک پہنچے جب بحیرۂ روم میں ادھر ادھر تیر رہا تھا۔

سیئرالیون کے پرچم تلے چلنے والا یہ جہاز اٹلی کی بندرگاہ کے جنوب مشرق میں متلاطم سمندر میں اس حالت میں ملا کہ اس کے اندر ایندھن ختم ہو گیا تھا۔

اس سے قبل گذشتہ ہفتے ایک اور جہاز پر سے 796 تارکینِ وطن کو بازیاب کیا گیا تھا۔ اس جہاز کا عملہ بھی اسے چھوڑ کر چلا گیا تھا۔

اطالوی کوسٹ گارڈ نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ عزالدین مقامی وقت کے مطابق 11 بجے بندرگاہ پہنچا۔

کوریلیانو کلابرو کے کوسٹ گارڈ کمانڈر فرانسیسکو پیروٹی نے بی بی سی کو بتایا کہ تمام تارکینِ وطن کا تعلق شام سے ہے۔

انھوں نے کہا کہ انھیں بس کے ذریعے اٹلی کے دوسرے حصوں تک لے جایا جا رہا ہے، اور یہ کہ تارکینِ وطن کی جسمانی حالت اچھی ہے۔

اس سے قبل کوسٹ گارڈ کمانڈر فلیپو مارینی نے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ عزالدین کو آئس لینڈ کا ایک بحری جہاز کھینچ کر لا رہا ہے۔

مارینی نے کہا کہ عزالدین ترکی سے چلا تھا، حالانکہ اس سے قبل اطلاعات آئی تھیں کہ اس نے قبرص سے سفر کا آغاز کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عزالدین پر 450 تارکینِ وطن سوار تھے جن کا تعلق شام سے تھا

یورپی ادارے فرنکٹیس کی ترجمان ازابیلا کوپر نے بتایا کہ تارکینِ وطن سمگلروں کے ہتھے چڑھ گئے تھے جنھوں نے لیبیا سے آنے والے عام راستے کی بجائے ایک اور راستہ اختیار کیا تھا۔

انھوں نے کہا: ’اب ہم تارکینِ وطن کا ایک نیا راستہ دیکھ رہے ہیں جہاں سمگلر پرانے مال بردار جہاز خرید لیتے ہیں، اور ترکی سے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔

’یہ راستہ لمبا ہےاور سمگلر اس راستے پر لیبیا کے مقابلے پر تین گنا زیادہ معاوضہ وصول کرتے ہیں۔‘

ایک تارکِ وطن نے وائرلیس پر خطرے کا پیغام دیا تھا۔ اس نے اطالوی کوسٹ گارڈ سے کہا: ’ہم عملے کے بغیر ہیں، اور اٹلی کے ساحل کی جانب بڑھ رہے ہیں، جہاز چلانے والا کوئی نہیں۔‘

اسی بارے میں