نائجیریا میں فوجی اڈے پر بوکو حرام کا قبضہ

باگا تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شمالی نائیجیریا میں باگا واحد ایسا قصبہ تھا جو حکومت کے کنٹرول میں تھا

نائجیریا کے حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شدت پسند گروپ بوکو حرام نے شمالی نائجیریا میں ایک قصبے اور اہم بین الاقوامی فوجی اڈے پر قبضہ کر لیا ہے۔

بورنو ریاست میں ایک سینیٹر کا کہنا ہے کہ سنیچر کو ہونے والے حملے کے بعد فوجی دستوں نے باگا قصبے کو خالی کر دیا ہے۔

باگا کے رہائشی جو فرار ہو کر کشتیوں کے ذریعے چاڈ پہنچ گئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ اس حملے میں متعدد لوگ ہلاک ہوئی ہیں اور قصبے کو آگ لگا دی گئی ہے۔

شمالی نائیجیریا میں باگا واحد ایسا قصبہ تھا جو حکومت کے کنٹرول میں تھا۔

فرار ہو کر چاڈ پہنچنے والے باگا کے رہائشیوں کا کہنا ہے کہ سنیچر کی صبح زبردست فائرنگ سے ان کی آنکھ کھلی شدت پسندوں نے باگا پرچاروں سمت سے حملہ کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے فوجیوں کو بھاگتے ہوئے دیکھا تو وہاں سے راہ فرار اختیار کر نے میں ہی عافیت سمجھی۔

باگا میں نائجیریا، چاڈ اور نائجر کی افواج پر مشتمل ملٹی نیشنل جوائنٹ ٹاسک فورس کا اڈہ تھا۔ یہ اڈہ 1998 میں قائم کیا گیا تھا۔ جو سرحدی جرائم سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا تھا اور حال ہی میں اس فورس نے بوکو حرام کے خلاف کارروائی شروع کر دی تھی۔

بی بی سی کی افریقی امور کی ایڈیٹر میری ہارپر کا کہنا ہے کہ بوکو حرام تقریباً ہر روز ہی قصبوں اور دیہات پر حملے کرکے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو اغوا کر لیتے ہیں۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ فوج اس مسئلے سے نمٹنے میں ناکام ہے۔

اسی بارے میں