گڑھے سے چوری کیے 18 ہزار کیکس کی فروحت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی شخص کے بیمار ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے

سربیا کے حکام کا کہنا ہے کہ ایک گڑھے میں دبائے گئے تقریباً 18 ہزار کیکس کو گڑھے سے چوری کر کے دوبارہ غیر قانونی طور پر بیچ دیا گیا ہے۔

یہ کیک سربیا کے ایک شہر میں ضائع کرنے کے لیے ایک گڑھے میں دبا دیے گئے تھے۔

کیکس کو ضائع کرنے کی وجہ یہ تھی کہ جس ریفریجیریٹر میں ان کو رکھا گیا تھا وہ خراب ہو گیا تھا جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ان کیکس کو فروخت نہ کیا جائے اور ضائع کرنے کے لیے ایک گڑھے میں دبا دیا جائے۔

سربیا کی مقامی میڈیا کے مطابق 24 دسمبر کو ان کیکس کو گڑھے سے چوری کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کیکس کو چوری کرنے اور غیر قانونی طور پر بیچنے کے پیچھے ایک منظم گروہ ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک کسی شخص کے بیمار ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس گڑھے کے ارد گرد کام کرنے والے کئی ملازمین کو معطل کردیا گیا ہے۔

ویب سائٹ بی 92 نے شہر کے میئر کے حوالے سے بتایا ’یہ کیک مشکوک جگہوں پر مشکوک قیمتوں میں دستیاب ہونے لگے۔‘

سربیا میں صارفین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم نے ان کیکس کی تصاویر شائع کی ہیں اور لوگوں کو متنبہ کیا ہے کہ انھیں خریدنے سے گریز کریں۔