لبرل یورپ اور’سخت گیر‘ اسلام کی کشمکش

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption یورپی حکمرانوں کو مسلمانوں کی یورپی معاشرے میں انضمام کے بارے سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا

2015 میں فرانس کے کارٹونسٹوں اور صحافیوں کو مبینہ توہینِ مذہب کی پاداش میں قتل نے یورپ کو ایک بار پھر جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے، حالانکہ حالیہ برسوں میں یورپ میں اس طرح کے حملوں کے تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

یورپ میں روشن خیالی کی تحریک کے بعد سیکیولر یورپ میں مذہب کو ایک طرف رکھ کر اسے طنز و مزاح کا نشانہ بنا دیاگیا ہے۔

لیکن اسلام کےساتھ ایسا نہیں ہے۔ اسلام کےاندر شیعہ اور سنیوں کی کشمکش، شدت پسندوں اور معتدل مسلمانوں کی اسلام کی تشریح پر جھگڑے اب یورپ کی گلیوں میں دیکھے جا رہے ہیں جس کے نتائج یورپ میں بسنے والے مسلمانوں کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

فرانس میں چارلی ایبڈو کے خلاف کارروائی شاید ’اکیلے بھیڑیوں‘ کی کارروائی ہو لیکن اس کے اثرات پورے یورپ میں محسوس کیے جائیں گے اور یورپی حکمرانوں کو مسلمانوں کی یورپی معاشرے میں انضمام کے بارے سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فرانس، جرمنی اور برطانیہ جہاں مسلمانوں کی آبادی اچھی خاصی ہے تارکین وطن کو پہلے ہی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فرانس میں مسلمانوں کی تعداد پانچ سے سات ملین ہے

یورپی ممالک میں فرانس وہ ملک ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ فرانس میں مسلمان شہریوں کی تعداد 50 سے 75 لاکھ ہے، جبکہ جرمنی اور برطانیہ میں مسلمانوں کی آبادی بالترتیب 40 لاکھ اور 30 لاکھ ہے۔ برطانیہ اور جرمنی میں مسلمانوں کی تعداد کل آبادی کا پانچ فیصد ہے۔

ان تینوں ملکوں میں بڑی سیاسی جماعتوں کو تارکین وطن کی تعداد اور ان کی اولادوں کے لبرل یورپ کی مذہبی رواداری اور آزادیِ اظہار کی اقدار سے خود کو ہم آہنگ بنانے سے انکار جیسے سوالوں کا سامنا ہے۔

برطانیہ میں تارکین وطن اور شدت پسندی سے متعلق مسائل کو امن پسندانہ انداز میں ’برطانوی اقدار‘ اور ’ٹروجن ہارس سکول‘ کےمعاملوں میں زیر بحث لایا گیا ہے۔

برطانیہ کو مسلمانوں سے خطرے کا احساس دو عشرے پہلے اس وقت ہوا جب سلمان رشدی کی کتاب ’شیطانی آیات‘ کی اشاعت کے بعد اس کے قتل کا فتویٰ جاری ہوا۔ 2007 میں برطانیہ لندن کی انڈر سٹیشنوں اور بسوں پر شدت پسندوں کے حملوں نے اس احساس کو ایک بار پھر زندہ کر دیا کہ مسلمان برطانیہ کے دل پر حملہ کر سکتے ہیں۔

البتہ فرانس کی گلیوں میں ماضی میں بھی اس طرح کے تشدد کے واقعات رونما ہو چکے ہیں لیکن اس نے ہمیشہ ان حملوں کو ذہنی طور پر الجھے ہوئے ’اکیلے بھیڑیوں‘ کی کارروائی کہہ کر ختم کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن فرانس اور بیلجیئم میں مذہبی تشدد کے واقعات کی وجہ سے کئی یہودی شہریوں نے اسرائیل ہجرت کو ترجیج دی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption برطانیہ کو مسلمانوں سے خطرے کا احساس اس وقت ہوا جب سلمان رشدی کے خلاف فتویٰ جاری ہوا

فرانس میں ان علاقوں میں جہاں مسلمان اور یہودی ہمیشہ امن سے رہ رہے تھے وہاں یہودی عبادت گاہوں پر حملوں نے ان خدشات کو ہوا دی ہے کہ افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں مذہب کے نام پر ہونے والی لڑائیاں اب یورپ تک پہنچ چکی ہیں۔

جرمنی میں مسلمان مخالف جذبات بڑھ رہے ہیں۔ جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی نیو نازی جماعتیں مسلمان کے خلاف جذبات کی ایک شکل’پیگدا موومنٹ‘ ہے جو یورپ میں اسلامائزیشن کے خلاف مظاہروں کا انعقاد کر رہی ہے جن میں دسیویں ہزار لوگ شریک ہو رہے ہیں۔

جرمنی کی اہم سیاسی جماعتوں نے پیگدا جیسی تحریکوں کے خلاف آواز بلند کی ہے اور ہزاروں حامیوں کو سڑکوں پر بھی لے آئے ہیں۔

فرانس میں چارلی ایبدو کے صحافیوں اور کارٹونسٹوں کی ہلاکت نے یورپ کو ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ شدت پسند مسلمان نوجوان مذہب کی اپنی تشریح کے خلاف کسی کو قتل کرنا جائز سمجھتے ہیں۔

یورپ کے لبرل معاشرے میں شدت پسند اسلام سے نمٹنے کے طریقوں اور شدت پسندی کے یورپی معاشروں پر اثرات سے حوالے سے اختلافات سامنے آ رہے ہیں جبکہ یورپی حکومتیں کسی کارروائی کی صورت میں مسلمانوں کے ممکنہ ردعمل سے پریشان ہیں۔

برطانیہ اور فرانس مسلمانوں کی تنظیموں نے فرانس میں ہونے والی شدت پسندی کی واضح الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان مسلمان تنظیموں کا کہنا ہے کہ اسلام اور شدت پسند ایک دوسرے کی ضد ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption یورپی حکمرانوں کو مسلمانوں کی یورپی معاشرے میں انضمام کے بارے سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا

لیکن اس واقعے کے ممکنہ ردعمل کے طور پر لوگوں کا دائیں بازو کی جماعتوں اور گروہ کی طرف جھکاؤ عام مسلمانوں کو سب سے زیادہ متاثر کرے گا۔

یورپ میں حکام اور مذہبی رہنما فکر میں ہیں کہ مذہب کے نام تشدد کا کیسے سامنا کیا جائے تاکہ اس پر اسلام مخالف ہونے کا بھی تاثر نہ پیدا ہو۔