’میں تو جہنم میں جاؤں گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کاڈلے گھرانے میں مذہبی بحثیں معمول کی بات ہے

برطانیہ میں مذہبی تنوع جتا آج دکھائی دیتا ہے اتنا پہلے کبھی نہ تھا، مگر یہ بات بھی سچ ہے کہ برطانیہ میں خدا کو نہ ماننے والوں کا تناسب جتنا زیادہ آج ہے اتنا کبھی نہ تھا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپ کا خدا پر کوئی ایمان نہیں تو آپ کسی ایسے شوہر یا بیوی کے ساتھ کیسے ہنسی خوشی رہ سکتے ہیں جو خدا پر یقین رکھتی ہو۔

’جہاں تک میری ذات کی بات ہے تو میں ثابت شدہ، پکّا مُلحد ہوں۔ میں تو اتنا پکا مُلحد ہوں کہ مجھے لگتا ہے کہ رچرڈ ڈاکنز جیسے لوگ ابھی تک فیصلہ نہیں پائے کہ خدا ہے یا نہیں، لیکن میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ خدا نہیں ہے۔‘

یہ الفاظ ہیں 44 سالہ جیز کاڈلے کے جو اپنی اہلیہ ہیدر اور دو لڑکوں، نو سالہ ولیم اور چھ سالہ کینی کے ساتھ لندن کے نواح میں واقع سرّے کاؤنٹی میں رہتے ہیں۔

شروع شروع میں جیز نہیں جانتے تھے کہ ہیدر اتنی مذہبی ہیں۔ جیز کے بقول انھیں یہ بات اس وقت معلوم ہوئی جب ان دونوں نے ایک گھر میں اکٹھے رہنا شروع کیا اور جیز نے دیکھا کہ ہیدر کیتھولک عقائد کی پابندی کرتی ہیں۔

اب تک ان کے دونوں بچوں کا بپتسمہ ہو چکا ہے۔ جیز اب بھی پکے مُلحد ہیں لیکن وہ ہر اتوار بچوں کو چرچ لے جاتے ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے گھر میں مذہبی بحثوں کا سامان ہر وقت موجود رہتا ہے۔

نو سالہ ولیم بڑی خوشی سے حمدیہ گیت گاتا رہتا ہے اور برطانوی معاشرے کے باقی بچوں کی طرح اپنے والد کی مذہب سے بیزاری پر بات کرتے بھی نہیں ٹلتا۔

کچھ عرصہ پہلے اپنے ایکس باکس پر کمپوٹر گیمز میں مگن ہو جانے کے بعد ولیم نے چرچ جانے سے انکار کر دیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ ’مذہب بالکل فضول چیز‘ ہے، لیکن پھر اس کے خیلات تبدیل ہو گئے۔ اب اس نے دوبارہ چرچ جانا شروع کر دیا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اسے خدا پر یقین ہے لیکن جب امی ابا مذہب پردھواں دھار بحثیں کرتے ہیں تو وہ پریشان ہو جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption کئی دیگر لوگوں کی طرح توصیف بھی محبت اور مذہب کے درمیان بٹ سے گئے ہیں

اپنی اہلیہ کے ساتھ آئے روز کی بحثیں ایک طرف، لیکن جیز کو ایک اور سوال کا بھی سامنا رہتا ہے، اور وہ یہ کہ اس زندگی کے بعد کیا ہو گا۔

’ہیدر ایک دفعہ اس بات کا ذکر کر چکی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ اسے یہ بات پریشان کرتی ہے کہ ہم مرنے کے بعد اکٹھے نہیں ہوں گے۔

’لیکن مجھے ایسی کوئی پریشانی نہیں۔ اگر میں اپنی بیوی کے عقائد کی نظر سے دیکھوں اور اگر اس کا مذہب سچا ہے تو میں تو دوزخ میں ہی جاؤں گا۔‘

دوسری جانب ہیدر ایسا نہیں سوچتیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’اچھی بیوی کے حوالے سے یہ ان کے فرائض میں شامل ہے‘ کہ وہ یہ دعا کریں کہ ان کا شوہر جنت میں جائے۔ہیدر کو امید ہے کہ ایک دن جیز اپنا ذہن تبدیل کر لیں گے اور خدا کو مان لیں گے۔

جیز بھی کچھ ایسا ہی سوچتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ہیدر ایک دن جاگ جائے گی اور اسے احساس ہو جائے گا کہ خدا نہیں۔ لیکن جب میں نے پوچھا کہ کھبی ایسا ہو سکتا ہے، تو دونوں میاں بیوی کا کہنا تھا کہ حقیقت میں ایسا کبھی نہیں ہو گا۔

اس قسم کے رشتوں میں یہ سوال بار بار اٹھتا ہے کہ بعد از حیات کیا ہوگا۔ مائیں سوچتی ہیں کہ ان کے ملحد بچے جنت میں ان کے ساتھ نہیں ہوں گے اور کئی بیویاں یہ سوچ کر پریشان ہو جاتی ہیں کہ چونکہ ان کے شوہر خدا سے انکار کرتے ہیں، اس لیے خود بیویوں کا ٹھکانہ بھی جہنم ہی ہو گا۔

ایسے ہی ایک شوہر کا نام توصیف ہے۔ چونکہ توصیف کی مسلمان اہلیہ کو معلوم نہیں کہ یہ انٹریو ان کے شوہر کا ہے، اس لیے توصیف کے اصل نام کو پوشیدہ رکھا گیا ہے۔

’میری بیوی کے لیے یہ بڑے گناہ کی بات ہے کہ وہ جانتے بوجھتے ایک ایسے شخص کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے جو خدا پر یقین نہیں رکھتا۔‘

توصیف کی پیدائش ایک مسلمان گھرانے میں ہوئی، لیکن 15 سال کی عمر تک وہ مُلحد ہو چکے تھے۔اس کے باوجود انھوں نے ایک مسلمان خاتون سے شادی کر لی، تاہم ان کا کہنا ہے کہ جب وہ دونوں ملے تھے اس وقت ان کی اہلیہ مذہب پر عمل کم ہی کرتی تھیں۔

توصیف اور ان کی اہلیہ دونوں برٹش پاکستانی ہیں اور توصیف کو امید تھی کہ ایک جیسا ثقافتی پس منظر ان کی شادی کے لیے اچھا ہوگا اور اگر ان دونوں کے درمیان محبت قائم رہتی ہے تو مذہب کا کوئی جھگڑا نہیں ہو گا۔

’لیکن لگتا ہے کہ ہم دونوں قدرے ناسمجھ تھے۔‘

توصیف اپنی زندگی میں کچھ تبدیلیاں لانے پر رضامند ہو گئے، مثلاً یہ کہ وہ بیوی کے سامنے شراب نہیں پییں گے اور بچوں کی مذہبی تعلیم میں ٹانگ نہیں اڑائیں گے۔

لیکن ہوا یہ کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ توصیف کی اہلیہ زیادہ مذہبی ہوگئیں اور اہلیہ کی کوششوں کے باوجود توصیف مذہب سے دور ہی رہے اور اب وہ وقت آگیا ہے جہاں وہ اپنی اہلیہ کو خوش کرنے کے لیے ان کے سامنے مسلمان بننے کی کوشش کر رہے ہیں۔

’میری بیوی ایک ایسا شوہر چاہتی ہے جو اسے حج کرانے لے جائے اور اس کے بیٹے کے ساتھ نماز پڑھے، لیکن وہ جانتی ہے کہ میں وہ شخص نہیں ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption میری بیوی ایک ایسا شوہر چاہتی ہے جو اسے حج کرانے لے جائے: توصیف

’آج سے تین چار سال پہلے میں سنجیدگی سے کوشش کر رہا تھا کہ واپس مذہب کی راہ پر آ جاؤں، چاہے یہ کتنی ہی احمقانہ بات کیوں نہ ہو۔ اس کے لیے میں نے ان لوگوں کے ساتھ وقت گزرنا شروع کر دیا جو زیادہ مذہبی تھے۔ میں نے کچھ مذہبی محفلوں میں بھی شرکت شروع کر دی، لیکن میرا دل جانتا تھا کہ میں خود کو بے وقوف بنا رہا ہوں۔

’اب میں نے مذہبی بننے والی بات ترک کر دی ہے۔ بلکہ اب میرا رجحان اس طرف زیادہ ہے کہ میں کسی طرح اپنی بیوی کو قائل کروں کہ میں اتنا مسلمان ضرور ہوں کہ وہ میرے ساتھ رہ سکتی ہے۔‘

توصیف اس بات پر رضامند ہیں کہ وہ اپنی اہلیہ سے جھوٹ بولتے رہیں۔ وہ اس بات پر راضی ہیں کہ خدا پر ایمان نہ ہونے کے باوجود وہ اپنے بیٹے کی پرورش اسلامی انداز میں کریں اور اپنی اہلیہ کو راضی رکھنے کے لیے وہ دہری زندگی گزارتے رہیں۔

توصیف نے اپنی اہلیہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ کبھی شراب نہیں پییں گے، لیکن کچھ ہی عرصہ پہلے وہ اس وقت پکڑے گئے جب فیس بک پر ان کی ایسی تصاویر نظر آ گئیں جن میں نشے میں دھت تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ توصیف کو رات ایک دوسرے کمرے میں گزارنا پڑی اور وہ جب جاگے تو ان کا سامان تیار تھا۔ لیکن توصیف کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کی خاطر شراب نہیں چھوڑ سکتے۔

’مجھے اب بھی اپنی بیوی سے محبت ہے، لیکن مجھے یقین ہوتا جا رہا ہے کہ اسے مجھ سے محبت نہیں۔ اس کی باتوں سے صاف ظاہر ہوتا کہ اسے واقعی مجھ سے محبت نہیں۔‘

اسی بارے میں