ایئر ایشیا: جہاز کا پچھلا حصہ نکال لیا گیا، بلیک باکس کی تلاش جاری

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بلیک باکس جہاز کے پچھلے حصے سے علیحدہ ہو گیا ہے

انڈونیشیا کی بحریہ نے سمندر سے انڈونیشیا سے سنگاپور جاتے ہوئے تباہ ہونے والے ایئرایشیا کے جہاز کا پچھلا حصہ نکال لیا ہے۔

انڈونیشیا کی بحریہ بلیک باکس کی بھی تلاش کر رہی ہے۔ یہ بلیک باکس جہاز کے پچھلے حصے سے علیحدہ ہو گیا ہے۔

اس سے قبل ریسکیو حکام کے مطابق انھیں بحیرۂ جاوا میں ایک سگنل موصول ہوا تھا جس کا تعلق ممکنہ طور پر جہاز کے بلیک باکس سے ہو سکتا ہے۔

اب تک ریسکیو ٹیموں نے سمندر سے 46 لاشیں نکال لی ہیں۔ حکام کا اندازہ ہے کہ بیشتر مسافروں کی لاشیں فیوزیلاژ (جہاز کا مرکزی حصہ جہاں مسافر بیٹھتے ہیں) میں ہیں، تاہم ابھی تک فیوزیلاژ نہیں مل پایا۔

انڈونیشیا کی نیشنل ٹرانسپورٹ سیفٹی کمیٹی کے ایک اہلکار کے مطابق انھیں ’جہاز کا ملبہ تلاش کرنے والے اہلکاروں کی جانب سے سگنل کے موصول ہونے کی تصدیق ہوئی ہے اور ہمارے خیال میں یہ جہاز کا بلیک باکس ہی ہے اور غوطہ خوروں کو اس کی تصدیق کرنا ہے۔ بدقسمتی سے بلیک باکس طیارے کے دم سے الگ ہو گیا تھا اور اب غوطہ خوروں کو اس کی اصل جگہ کی نشاندہی کرنی ہے۔‘

بلیک باکس کی مدد سے تفتیش کاروں کو جہاز کے تباہ ہونے کی وجہ معلوم ہو سکے گی۔

ایئر ایشیا کا یہ جہاز 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے دوسرے بڑے شہر سورابایا سے سنگاپور جا رہا تھا کہ خراب موسم کے دوران گر کر تباہ ہو گیا۔ جہاز پر 162 افراد سوار تھے۔

اس وقت جہاز کے ملبے اور لاشوں کی تلاش میں مختلف ملکوں کے 30 جہاز حصہ لے رہے ہیں۔اس کے علاوہ چھ ہوائی جہاز اور 14 ہیلی کاپٹر بھی ان کارروائیوں میں شامل ہیں۔

اسی بارے میں