قبرص ایئرویز کا آپریشنز بند کرنے کا اعلان

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption قبرص کی حکومت قبرص ایئر ویز کے 93 فیصد حصص کی ملکیت رکھتی ہے

قبرص کی قومی فضائی کمپنی نے یورپی یونین کی جانب سے حکومت کی جانب سے ملنے والی غیر قانونی چھ کروڑ پچاس لاکھ یورو کی امداد واپس کرنے کے فیصلے کے بعد آپریشن بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یورپی کمیشن نے قبرص کی حکومت کی جانب سے امداد دیے جانے کے فیصلے پر کہا تھا کہ اس نے مشکلات کا شکار کمپنیوں کی امداد کے یورپی قوانین کی خلاف ورزی کی تھی۔

قبرص ایئر ویز نے 2007 سے 2013 کے عرصے کے درمیان حکومت سے کئی بار امداد وصول کی۔

قبرص کی حکومت جو ہوائی کمپنی کے 93 فیصد حصص کی ملکیت رکھتی ہے نے کئی بار بیرونی سرمایہ کاری کے حصول کی کوشش کی مگر اس میں ناکام رہی ہے۔

قبرص کے وزیرخزانہ ہیرس جوجیادس نے کہا کہ ’کمپنی اب کام نہیں کر سکتی اس لیے اس نے کام روک دیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ سینیچر سے فضائی کمپنی کی پروازوں پر سفر کرنے والے مسافروں کے لیے متبادل انتظامات کیے جائیں گے۔

یورپی کمیشن نے کمپنی کو موصول ہونے والی حکومتی امداد کا تفصیلی جائزہ لیا جس کی رپورٹ میں کمپنی کے تنظیمِ نو کے منصوبے پر شدید تنقید کی گئی اور اسے ’غیر حقیقی تصورات‘ پر مبنی قرار دیا گیا۔

یورپی قوانین کے تحت ایسی کمپنیاں جو مشکلات کا شکار ہوں کو حکومتی امداد ’ایک بار اور آخری بار‘ کی بنیاد پر دی جا سکتی ہے۔

ان قوانین کے مطابق حکومت دس سال کے عرصے میں ایک بار امداد کے لیے رقم تنظیمِ نو میں مدد دینے کے لیے دے سکتی ہے۔

ان قوانین کا مقصد کمپنیوں کا حکومتی امداد پر انحصار کم کرنا اور اس کی وجہ سے دوسروں پر نامناسب برتری حاصل کرنے سے روکنا ہے۔

اسی بارے میں