کیا پیرس حملے انٹیلجنس کی ناکامی ہیں؟

Image caption کیا فرانسیسی حکام سے خطرے کو بھانپنے میں کوتاہی ہوئی؟

اس دور میں ہر دہشت گردی کے واقعے کے بعد یہ الزام سامنے آنا معمول کی بات ہے کہ یہ انٹیلجنس کی ناکامی ہے۔

فرانس میں جریدے چارلی ایبڈو پر حملے کے بعد اس الزام کو تقویت ملی ہے کیونکہ جو مشتبہ افراد ان حملوں میں ملوث تھے ان کے بارے میں نہ صرف فرانسیسی بلکہ یورپی اور امریکی حکام کو پتا تھا۔ ان میں سے ایک تین سال کے عرصے میں یمن سفر کر چکا تھا اور دوسرے پر عراق سفر کرنے کا جرم ثابت ہوا اور یہ سب یورپی جہادی نیٹ ورک میں شامل تھے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا فرانس سے کوتاہی ہوئی؟

تصویر کے کاپی رائٹ FRENCH POLICE AFP
Image caption کوچی برادران بائیں جانب شریف کواچی دائیں جانب سعید کواچی

اس کا جواب واضح نہیں ہے کیونکہ یہ بات درست ہے کہ مشتبہ افراد کے بارے میں علم تھا شریف اور سعید کواچی کا امادی کولیبالی اور اس کی گرل فرینڈ کے ساتھ تعلق تھا جو بڑے پیمانے پر یورپی جہادی نیٹ ورک سے جڑے ہوئے تھے۔

کواچی برادارن میں سے چھوٹے بھائی شریف کو ایک دہائی قبل عراقی جہادیوں کا ساتھ دینے کے لیے جانے کے جرم کی سزا دی گئی تھی اور جیل میں ان کی تربیت القاعدہ سے جڑے جمال بیگال نے کی جو خود لندن کی فنزبری پارک مسجد میں شدت پسند مسلم مبلغ ابو حمزہ کے ساتھی رہ چکے تھے۔

بڑے کوچی بھائی نے 2011 میں یمن کا سفر کیا جہاں ان کی ملاقات جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے رہنما انوار الاولاکی سے ہوئی۔

یاد رہے کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے کامیابی سے مغربی ممالک میں جانے والے طیاروں پر بم رکھے اور اس نے فرانس کے حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔

دیکھیے کس طرح مشتبہ افراد کا آپس میں تعلق تھا

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

شریف کواچی کی فرانسیسی حکام کے مطابق دہشت گردوں سے یمن میں ملاقات ہوئی مگر یہاں یہ واضح رہے کہ ہزاروں افراد کا ان نیٹ ورکس سے تعلق رہا ہے جن میں سے کئی کا دہائی پرانا ہے۔

اس پر 1000 کے قریب فرانسیسی شہری ہیں جن کے بارے میں پتا ہے اور اس سے قبل ایک بڑی آبادی ایسی ہے جس نے دولتِ اسلامیہ کے ساتھ لڑنے کے لیے شام اور عراق کا سفر کیا ہوگا جن کے بارے میں تفصیلات معلوم نہیں ہے اور 200 کے قریب ان میں سے لوٹ بھی چکے ہیں۔

فرانس کے پاس غیر معمولی طور پر طاقتور انٹیلجنس ایجنسیاں ہیں مگر کسی بھی غیر ملکی خفیہ ایجنسی کے پاس ایسے قانونی اختیارات یا افرادی قوت نہیں ہے کہ وہ ہزاروں شہریوں کی مستقل جاسوسی کر سکے جنہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہو۔

جیسا کہ ایک فرانسیسی انٹیلجنس اہلکار نے نیویارک ٹائمز کو بتایا کہ ’ہمیں پیرس کی بہتر طریقے سے حفاظت کرنے کے لیے اپنے سٹاف کو تین گنا بڑھانا ہو گا۔‘

آپ کیسے حقیقی خطرات کی نشاندہی کرتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اس ساری صورتحال میں چیلنج یہ ہوتا ہے کہ آپ محدود معلومات کی بنیاد پر کیسے چند افراد کے نیٹ ورک کی شناخت کریں؟

معلومات اُس صورت میں اور بھی محدود ہو جاتی ہیں جب شدت پسندی کے حملے کے منصوبے بغیر بیرونی ہدایات کے اندرونی طور پر بنائے جا رہے ہوں جس کے نتیجے میں جاسوسی کرنے کی صلاحیت محدود ہو جاتی ہے۔

خاص طور پر اس طرح کے حملوں میں دستیاب وسائل استعمال کیے جاتے ہیں جیسا کہ بندوقیں بجائے اس کے کہ پیچیدہ دھماکہ خیز مواد استعمال ہو رہا ہو۔

تو فرانسیسی حکام پر الزام لگانا نا مناسب ہے جنہوں نے اطلاعات کے مطابق سعید کواشی کی جاسوسی یمن سے واپسی پر چھوڑ دی تھی جب ابتدائی جاسوسی کے نتائج واضح یا حسبِ توقع نہیں تھے۔

دوسرے الفاظ میں اسے ایک انٹیلجنس کی ناکامی کہنے سے قبل ہمیں اس بھوسے کے ڈھیر کے حجم اور اُس میں موجود سوئیوں کے بڑے یا چھوٹے ہونے اور اس سارے عمل کے معیار کا اندازہ لگانا ہو گا۔

کیا سراغ لگنے میں ناکامی ہوئی؟

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سعید کواچی کا شناختی کارڈ جو پولیس کو اُن کی گاڑی سے ملا جو انہوں نے حملے بعد چھوڑ دی

یہ سوچنا حق بجانب ہے کہ فرانسیسی حکام نے بعض ایسی معلومات حاصل کرنے میں ناکامی دکھائی جو اُنہیں حاصل کرنی چاہیے تھیں۔

کواچی برادران اپنے گھر میں اسلحے کا ذخیرہ جمع کرنے میں کامیاب رہے ہمسایوں نے اس ذخیرے کا پتا چلایا مگر انہیں ڈرا کر خاموش کرا دیا گیا جو بہت حد تک مقامی پولیس کی ناکامی ہے اور مقامی مسلمان کمیونٹی اور حکام کے درمیان برے تعلقات کی نشاندہی کرتی ہے نہ کہ قومی انٹیلجنس کی۔

یہ علیحدہ بات ہے کہ حملہ کرنے والی بندوقیں اور راکٹ لانچر مغربی یورپ میں آسانی سے دستیاب نہیں ہیں اور فرانسیسی حکام کا ان کی دستیابی پر زیادہ کنٹرول ہونا چاہیے تھا۔

ہم فرانسیسی حکام اور ان کے بیرونی حلیفوں خصوصاً یمنی اور امریکیوں سے یہ پوچھیں گے کہ کیا انہوں نے انٹیلجنس کا تبادلہ کیا جنہیں اگر ملا کر دیکھا جاتا تو انفرادی تصویر کی بجائے ایک مختلف تصویر سامنے آتی؟

ایک رپورٹ بتاتی ہے کہ فرانس نے کواچی برادران کو اہمیت نہیں دی کیونکہ یمن ایک امریکہ کا ترجیحی ملک تھا مگر دوسری جانب امریکی حکام نے اسے فرانس پر چھوڑ رکھا تھا اور یہاں یہ یاد رہے کہ فرانس امریکہ کی قیادت میں کام کرنے والے فائیو آئیز انٹیلجنس الائنس کا رکن نہیں ہے۔

کیا عالمی دہشت گرد گروہوں کا کوئی کردار تھا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption کیا پولیس کو اس بات پر چوکس رہنا چاہیے تھا کہ شدت پسندوں نے تباہ کن ہتھیار حاصل کر لیے ہیں؟

ہم دہشت گردی کے حملوں کو زیادہ تر دو درجہ بندیوں میں تقسیم کرتے ہیں ایک تکنیکی لحاظ سے کم درجے کے جو فردِ واحد یا چھوٹے گروہوں کی جانب سے ہوتے ہیں دوسرے پیچیدہ بڑے پیمانے پر ہوتے ہیں جن کے پیچھے تنظیمیں ہوتی ہیں۔

گذشتہ چھ مہینوں میں یورپ اور شمالی امریکہ میں چھوٹے درجے کے حملے ہوتے رہے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تھوڑے بڑے درجے کے حملے جن میں زیادہ مہلک اسلحہ استعمال ہوتا ہے اور زیادہ تیاری چاہیے ہوتی ہے اور ان کے پیچھے یقیناً بڑی دہشت گرد تنظیمیں ہوتی ہیں۔

اس معاملے میں حملہ آوروں کا دعویٰ ہے کہ انہیں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نے بھجوایا جس کا دعویٰ ہے کہ اس نے اس حملے کی ’ہدایات‘ دیں۔

تاہم ہمیں اس دعوے کو شک کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔

آسٹریلیا کے انسدادِ دہشت گردی کے تجزیہ کار لیہ فیرل نے یاد دہانی کروائی کہ القاعدہ کے کارندوں کو 1998 میں امریکی سفارت خانوں پر حملہ کرنے کی عمومی ہدایات دی گئی تھیں اور القاعدہ کی قیادت کو حملوں کے بارے میں اس وقت پتا چلا جب حملے جاری تھے۔

یہی صورتحال پیرس میں بھی ہو سکتی ہے خصوصاً جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے حوالے سے کیونکہ اس سے قبل ان کے حملے پیچیدہ تھے نہ کہ بندوق برداروں کی مدد سے۔

جہاں حالیہ دنوں میں دولتِ اسلامیہ اور القاعدہ کا عروج نظر آیا ہے وہیں القاعدہ کی یمنی شاخ ایک نمایاں خطرہ ہے اور اس کا کوئی شامی عنصر بھی ہو سکتا ہے کیونکہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے وہاں رابطے ہیں۔

تاہم ایک حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے اس سے زیادہ ثبوت چاہیے ہیں۔

نتائج؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پیرس میں ہونے والے حملے جیسے حملے گذشتہ پچاس سالوں سے ہو رہے ہیں

پیرس حملے کوئی نئی قسم کی دہشت گردی نہیں ہے۔ بندوق برداروں کا استعمال، یرغمال بنانا، سکرین یا میڈیا پر زیادہ دیر تک نمایاں رہنے کو ہلاکتوں کی تعداد پر ترجیح دینا اور مختلف افراد پر مشتمل گروہوں کا ایک پیچیدہ نظام گذشتہ پچاس سالوں میں حملوں کا نمایاں پہلو رہے ہیں۔

نیا چیلنج خطرات میں کسی ایک کو ترجیح بنانا نہیں ہے بلکہ کئی متوقع خطرات اور محدود وسائل کے درمیان بڑھتا ہوا نامناسب جوڑ ہے۔

اسی بارے میں