مصر میں بدکاری کے الزام میں گرفتار 26 افراد رہا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اکثر ہم جنس پرستوں کو بدکاری یا سرِعام فاہاشی پھیلانے جیسے الزامات لگا کر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔

مصر میں ایک عدالت نے شہوت پرستی کے الزام میں گرفتار 26 افراد کو رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

ان افراد کو پچھلے ماہ ایک ویڈیو جس میں ایک ہم جنس پرست جوڑے کی شادی کرواتے دیکھا گیا اور اس ویڈیو کے منظرِ عام پر آنے کے بعد انھیں گرفتار کیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیمیں مصر میں ہم جنس پرستوں کے سا تھ کیے جانے والے ناروا سلوک کو اکثر تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔

خیال رہے کہ مصر میں اگرچہ ہم جنس پرستی قانونی طور پر جائز ہے مگر اسے ایک ناپسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے۔

اکثر ہم جنس پرستوں کو بدکاری یا سرِعام فحاشی پھیلانے جیسے الزامات لگا کر جیل بھیج دیا جاتا ہے۔

رہا ہونے والے افراد پر شہوت پرستی اور سرِعام جنسی حرکات کرنے کے الزام تھا۔

عدالت نے صرف تین پیشیوں کے بعد ہی ان افراد کو رہا کر دیا ہے۔

پیشیوں کے دوران ان افراد کے اہلِ خانہ اور صحافیوں میں ملزمان کی تصاویر لینے کے معاملے پر جھگڑے بھی ہوتے رہے۔

اس مقدمے کا مشاہدہ کرنے والے ایک امریکی محقق سکاٹ لانگ کا کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے پر حیران بھی ہیں اور خوش بھی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوے ان کا کہنا تھا کہ ’ آخر کار ایک ایسا جج مل گیا جس نے ثبوتوں کو دیکھ کر فیصلہ کیا۔‘

انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ 2014 مصر کے ہم جنس پرستوں کے لیے بدترین سال تھا جس میں کم از کم 150 افراد کو ہم جنس پرستی کے جرم میں گرفتار کیا گیا یا ان پر مقدمہ چلایا گیا۔

خیال رہے کہ حالیہ کچھ عرصہ سے مصر میں سیاسی مخالفین اور عسکریت پسندی کے ساتھ ہم جنس پرستی اور دہریت کے خلاف کارروائیوں میں بھی تیزی آئی ہے۔

اسی بارے میں