فرانس میں سکیورٹی کے لیے 10 ہزار فوجی تعینات

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر اولاند کی زیر صدارت اجلاس میں فرانس کے وزیر اعظم سمیت وزیر داخلہ اور سکیورٹی اداروں کے سربراہان بھی شامل ہیں

فرانس میں گذشتہ ہفتے کے پرتشدد حملوں کے بعد صدر فرانسوا اولاند کی صدارت میں ہونےوالے سکیورٹی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ سکیورٹی انتظامات کے طور پر دس ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے جائیں گے جبکہ یہودیوں کے سکولوں کے حفاظت کے لیے بھی ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔

یہ پہلاموقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کو سکیورٹی کے لیے ملک میں تعینات کیا جا رہا ہے۔ وزیر دفاع جین یوس کا کہنا ہے کہ منگل کی شام تک فوجیوں کی تعیناتی کا کام مکمل کر لیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں صدر اولاند کو حملوں کے بارے میں تازہ ترین تحقیقات سے آگاہ کیا جائے گا اور اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ کیسے وہ شدت پسند جو حکام کے زیر نگرانی ہیں کارروائیاں کرنے میں کامیاب ہوئے۔

تازہ ترین تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سپر مارکیٹ پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کولیبالی کے زیرِ استعمال ایک اور فلیٹ بھی تھا جہاں اس نےہتھیار ذخیرہ کیے ہوئے تھے۔

فرانس میں جریدے چارلی ایبڈو پر حملے سمیت پر تشدد کارروائیوں میں 17 افراد کی ہلاک ہوئے تھے۔

صدر اولاند کی زیر صدارت اجلاس میں فرانس کے وزیر اعظم سمیت وزیر داخلہ اور سکیورٹی اداروں کے سربراہان بھی شامل ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کی کارروائیوں کے بعد سکیورٹی کو بہتر کرنے کے لیے دس ہزار فوجیوں کو تعینات کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ فرانس میں 717 یہودی سکولوں کی حفاظت کے لیے پانچ ہزار پولیس اہلکار بھی تعینات کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب لندن میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون بھی پیر کو سینیئر انٹیلیجنس اور سکیورٹی حکام سے مل رہے ہیں۔

اس سے قبل فرانسیسی عوام نے پیرس کی تاریخ کے سب سے بڑے اجتماع میں شرکت کی جس میں اظہارِ یکجہتی کے لیے 40 ممالک کے سربراہان شریک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیرس کے علاوہ دوسرے شہروں میں بھی ریلیاں نکالی گئیں جن میں سے یہ ریمس شہر میں نکالی جانے والی ریلی کی تصویر ہے
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ریلی میں شریک لوگوں میں کئی نے پنسل اور قلم اٹھا رکھے تھے
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس کے علاوہ بینرز اور پلے کارڈز پر ’ہم چارلی ہیں‘ اور ’میں بھی یہاں موجود ہوں‘ لکھا ہوا تھا

اتوار کو نکالی جانے والی اس ریلی میں ایک اندازے کے مطابق تیس لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی جن میں برطانوی وزیراعظم، جرمن چانسلر آنگیلا میرکل، فلسطینی صدر محمود عباس، مالی کے صدر ابراہیم بابوچر کیتا، یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک، اردن کے شاہ عبداللہ اور ان کی اہلیہ رانیہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامن نتنیاہوسمیت کئی ممالک کے سربراہان شریک ہوئے۔

اس موقعے پر فرانس کے صدر فرانسواں اولاند کا کہنا تھا کہ ’آج پیرس دنیا کے دارالحکومت کا نقشہ پیش کر رہا ہے۔ آج ہمارا سارا ملک اٹھ کھڑا ہو گا۔‘

یہ ریلی پیلا ڈی لا رپبلک کے مقام سے شروع ہوئی اور پیلا ڈی نیسیوں پر اختتام پذیر ہوئی جس کی قیادت ہلاک ہونے والے رشتہ داروں نے کی۔

فرانس کے کئی دوسرے شہروں میں بھی اسی طرح کی ریلیاں نکالی گئیں جن میں وزارتِ داخلہ کے مطابق 37 لاکھ کے قریب افراد نے شرکی جن میں سے 16 لاکھ کے قریب افراد پیرس کی ریلی میں شریک ہوئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فرانس بھر میں 30 لاکھ سے زیادہ افراد نے احتجاج کیا
تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایک شخص نے پلے کارڈ اٹھا رکھا ہے جس پر ’آزادی‘ اور ’میں چارلی ہوں‘ لکھا ہے
تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پیرس کی ریلی کو شہر کی تاریخ کے سب سے برے اجتماعات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے

پیرس کی ریلی کے آغاز پر عالمی رہنماؤں نے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

40 ملکوں کے سربراہان کی سکیورٹی کے لیے پیرس میں 2000 پولیس اہلکار جبکہ 1350 فوجی تعینات کیے گئے جن میں چھتوں پر ماہر نشانہ باز بھی موجود تھے۔

پیرس میں نکالی جانے والی ریلی کو حفاظتی نقطۂ نظر سے دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جو دو راستوں سے ہوتی ہوئی اپنی منزل پر پہنچی۔

ان ریلیوں میں شریک افراد آزادی اور چارلی کے نعرے لگا رہے تھے اور بعض فرانسیسی پرچم لہرا رہے تھے اور قومی ترانے گا رہے تھے۔

فرانس کے دوسرے بڑے شہر مارسیلز میں بھی ریلیاں نکالی گئی جو ملک کی مسلمان آبادی کا سب سے بڑا مرکز ہے۔

اسی بارے میں