جرمنی: اسلامائزیشن کے خلاف ریکارڈ جلوس

تصویر کے کاپی رائٹ h
Image caption پیگیڈا اس سے پہلے بھی ڈریزڈن میں یورپ کی اسلامائزیشن کے خلاف جلوس نکالتی رہی ہے

پیرس کے میگزین پر حملے کے پس منظر میں جرمنی کے شہر ڈریزڈن میں یورپ کی اسلامائزیشن کے خلاف جلوس نکالا گیا جس میں ریکارڈ تعداد میں لوگوں نے حصہ لیا۔

اس احتجاجی مظاہرے کو پیگیڈا نامی تنظیم نے منعقد کیا تھا اور اس میں لوگوں نے سیاسی جماعتوں کی تلقین کے باوجود شرکت کی۔

جرمنی کے دوسرے شہروں میں لوگوں نے پیگیڈا کی مخالفت میں جلوس نکالے۔

جرمنی کی چانسلر انگلیلا میرکل نے کہا ہے کہ وہ منگل کے روز برلن میں مسلمان تنظیموں کے احتجاجی جلسے میں شرکت کریں گی۔

وزیرِ انصاف ہائیکو ماس ان نمایاں سیاست دانوں میں شامل تھے جنھوں نے پیگیڈا کے منتظمین پر زور دیا تھا کہ وہ پیرس کے میگزین چارلی ایبڈو پر ہونے والے مہلک حملے کا ’ناجائز فائدہ‘ نہ اٹھائیں۔

تاہم جلوس اس کے باوجود بھی منعقد ہوا اور اس میں ریکارڈ 25 ہزار لوگوں نے شرکت کی۔

جلوس کے شرکان نے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے جن پر فرانسیسی کارٹون نگاروں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا گیا تھا۔

مقتولین کے سوگ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

پیگیڈا کا مطلب جرمن زبان میں ہے ’مغرب کی اسلامائزیشن کے خلاف محبِ وطن یورپی،‘ اور اس نے پہلے بھی ڈریزڈن میں بڑے جلوس نکالے ہیں۔

پیر کے روز پیگیڈا مخالف جلوسوں میں ڈریزڈن میں سات ہزار، لائپسگ میں 30 ہزار، میونخ میں 20 ہزار اور ہینوور میں 19 ہزار لوگوں نے شرکت کی۔

بی بی سی کی نامہ نگار جینی ہل اس موقعے پر ڈریزڈن میں موجود تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر پیگیڈا کے جلسے جلوس بڑے پرشور ہوتے ہیں لیکن یہ جلوس خاصا خاموش تھا کیوں کہ اس کے منتظمین نے لوگوں سے کہا تھا کہ یہ ماتمی جلوس ہے جو پیرس کے مقتولین کی یاد میں نکالا جا رہا ہے۔

پیگیڈا پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ وہ دہشت گردانہ حملوں کا ناجائز فائدہ اٹھانا چاہتی ہے اور انگلیلا میرکل نے جرمنوں سے درخواست کی تھی کہ وہ اس کی حمایت نہ کریں۔

تاہم پیر کے اس جلسے میں ہزاروں لوگوں نے انھیں نظر انداز کر کے شرکت کی۔

اسی بارے میں