اوباما کی سائبر سکیورٹی سخت بنانے کی تجاویز

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption براک اوباما نے ورجینیا میں سائبر سکیورٹی سینٹر میں تقریر کرتے ہوئے سائبر سکیورٹی کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا

حال ہی میں اہم امریکی اہداف پر سائبر حملوں کے بعد صدر براک اوباما نے سائبر سکیورٹی قوانین کو مضبوط بنانے کے لیے تجاویز پیش کی ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ پینٹاگان کے ٹوئٹر اکاؤنٹ اور سونی پکچرز پر سائبر حملے سے قوانین سخت کرنے کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔

یہ تجاویز فوری طور پر کانگریس کو بھیجی جائیں گی۔

اس سے قبل سائبر سکیورٹی کے بارے میں قانون سازی کی کوششوں کو شہری حقوق کی تنظیمیں تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہیں۔

اوباما انتظامیہ کو لوگوں کی خلوت میں مداخلت پر بدستور تشویش کا سامنا ہے، خاص طور پر ان خبروں کے بعد کہ حکومت آن لائن سرگرمیوں کی بڑے پیمانے پر نگرانی کرتی ہے۔

تاہم سائبر جرائم نے لاکھوں لوگوں کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ کئی امریکی تجارتی کمپنیوں سے بڑے پیمانے پر ڈیٹا چوری کیا گیا ہے، اور اس بات کے اشارے موجود ہیں کہ رپبلکن پارٹی کی اکثریت والی کانگریس اس نئے قانون کو منظور کر لے گی۔

صدر اوباما نے منگل کے روز کہا: ’ہمیں ان لوگوں سے ایک قدم آگے رہنا ہے جو ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ سائبر حملے فوری اور بڑھتا ہوا خطرہ ہیں۔‘

امریکی صدر ایسے قانون کے لیے راہ ہموار کر رہے ہیں جس میں حکومت اور نجی ادارے سائبر حملوں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ کر سکیں، اور سائبر مجرموں کے خلاف موجود قانونی فریم ورک کی تجدید کی جا سکے۔

وہ کئی برسوں سے سائبر سکیورٹی کو بہتر بنانے کی کوششیں کرتے رہے ہیں، اور انھیں امید ہے کہ اس بار رپبلکن پارٹی کے ساتھ اتفاقِ رائے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

یہ اعلان اس کے ایک دن بعد آیا ہے جب امریکی سینٹرل کمانڈ کا ٹوئٹر اکاؤنٹ ہیک کر لیا گیا تھا۔

ہیکروں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کا تعلق دولتِ اسلامیہ سے ہے۔

نومبر میں ہیکروں نے سونی پکچرز کا خفیہ ڈیٹا چوری کر کے آن لائن نشر کر دیا تھا۔

اس کے لیے علاوہ ہوم ڈپو اور ٹارگٹ بھی ایسی امریکی کمپنیاں ہیں جو ہیکروں کا نشانہ بن چکی ہیں۔

اسی بارے میں