ایئر ایشیا پرواز کا ’ڈھانچہ نظر‘ آ گیا ہے: حکام

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایئر ایشیا کا یہ جہاز جس پر 162 افراد سوار تھے، گذشتہ ماہ 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور جاتے ہوئے خراب موسم میں گر گیا تھا

سنگاپور میں حکام کے مطابق حادثے کا شکار ایئر ایشیا کی پرواز کیو زیڈ 8501 کا ڈھانچہ جاوا سمندر میں نظر آ گیا ہے۔

سنگا پور کے وزیرِ دفاع اینگ ہین نے اپنے فیس بک کے صفحے پر حادثے کا شکار ایئر ایشیا کی پرواز کی تصاویر کو پوسٹ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ تصاویر اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ یہ ایئر ایشیا کی پرواز کیو زیڈ 8501 ہی کی ہیں۔

انڈونیشیا کی سرچ اینڈ ریسکیو ایجنسی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ انھیں شبہ ہے کہ جاوا سمندر میں نظر آنے والا ڈھانچہ ایئر ایشیا کی پرواز کیو زیڈ 8501 کا ہی ہے تاہم وہ اس کی تصدیق کا انتظار کر رہے ہیں۔

ایئر ایشیا کا یہ جہاز جس پر 162 افراد سوار تھے، گذشتہ ماہ 28 دسمبر کو انڈونیشیا کے شہر سورابایا سے سنگاپور جاتے ہوئے خراب موسم میں گر گیا تھا۔

اگرچہ حادثے کا شکار طیارے سے درجنوں لاشیں مل چکی ہیں تاہم یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس میں ابھی بھی متعدد مسافروں اور عملے کے ارکان موجود ہیں اور اسی لیے اس کا ڈھانچہ ملنے کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ایئر ایشیا کی پرواز کیو زیڈ 8501 کا بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر مل چکے ہیں۔

حکام کے مطابق بلیک باکس اور کاک پٹ وائس ریکارڈر کے ملنے کے بعد ان دونوں کی مدد سے تفتیش کرنے والوں کو حادثے کا شکار طیارے کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی تفصیل مل سکے گی۔

فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر میں طیارے کی رفتار، اس کی بلندی اور دیگر تکنیکی معلومات ریکارڈ ہوتی ہیں پہلے ہی دارالحکومت میں موجود ہیں۔

گذشتہ دنوں ایئر ایشیا کے حادثے کا شکار طیارے کا عقبی حصہ پانی سے باہر نکالا گیا تھا تاہم اس میں بلیک باکس موجود نہیں تھا۔

جہاز کے گرنے کی وجہ تو ابھی معلوم نہیں ہوسکی مگر پائلٹ نے خراب موسم کے باعث پرواز کا راستہ تبدیل کرنے کی درخواست کی تھی۔

اسی بارے میں