جوہری مذاکرات سے قبل کیری اور ظریف کی ملاقات

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آخری دور نومبر میں آسٹریا کے شہر ویانا میں ہوا تھا

ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت کی بحالی کے لیے امریکی وزیرِ خارجہ سوئٹزرلینڈ میں اپنے ایرانی ہم منصب محمد جاوید ظریف سے ملاقات کر رہے ہیں۔

جان کیری کا کہنا ہے کہ جینیوا میں ہونے والی اس ملاقات میں جوہری پروگرام پر مذاکرات کے جمعرات سے شروع ہونے والے نئے مرحلے کے حوالے سے بات چیت ہوگی۔

متنازع جوہری پروگرام پر ایران اور چھ عالمی طاقتیں نومبر 2013 میں ایک عبوری معاہدے پر متفق ہوئی تھیں تاہم دو مرتبہ ڈیڈ لائنز گزرنے کے باوجود اس سلسلے میں جامع معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔

عالمی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ایران اپنا جوہری پروگرام بند کر دے اور ایسا کرنے کی صورت میں اس پر عائد پابندیاں اٹھا لی جائیں۔

جمعرات سے شروع ہونے والے مذاکراتی دور کا مقصد یکم مارچ تک جوہری معاہدے کے سلسلے میں اعلیٰ سطح کے سیاسی سمجھوتے پر اتفاق اور یکم جولائی تک مکمل تکنیکی تفصیل کے ساتھ جوہری معاہدے کی تصدیق کروانا ہے۔

جان کیری نے پیر کو دورۂ بھارت کے دوران کہا تھا کہ انھیں امید ہے کہ وہ ’مذاکراتی عمل میں تیزی لانے اور اسے آگے بڑھانے میں کامیاب ہوں گے۔‘

ایرانی وزیرِ خارجہ نے بھی پیر کو کہا تھا کہ روس کو ان مذاکرات میں زیادہ اہم کردار دینا بات چیت میں تیزی لا سکتا ہے۔

عالمی طاقتوں اور ایران کے درمیان مذاکرات کا آخری دور نومبر میں آسٹریا کے شہر ویانا میں ہوا تھا اور یہ بات چیت کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہوگئی تھی۔

امریکی وزیرِ خارجہ کے مطابق اب یہ مذاکرات ’اس مرحلے میں ہیں جہاں زیادہ تر معاملات واضح ہو چکے ہیں اور انھیں سمجھا جا رہا ہے۔‘

جینیوا میں ہونے والی بات چیت میں ایران میں یورینیم کی افزودگی کے مستقبل اور پابندیوں کے جلد از جلد خاتمے پر بات ہوگی۔

جینیوا میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار کے مطابق ماضی میں اختلافات کے باوجود امریکی اور ایرانی وزارئے خارجہ کی بدھ کو ہونے والی ملاقات کے حوالے سے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی نے بھی حال ہی میں کہا ہے کہ یورینیم کی افزودگی میں کمی کا مقصد ایران کے قومی اصولوں سے روگردانی یا ان پر سمجھوتہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ امریکہ، روس، چین، فرانس اور جرمنی کی کوشش ہے کہ ایران کے ساتھ اس معاہدے کو حتمی شکل دی جائے جس پر ابتدائی رضامندی گذشتہ برس جنیوا میں ہو گئی تھی۔

مذاکرات میں شامل ممالک ایران سے اس بات کا مظاہرہ چاہتے ہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ وہ جوہری اسلحہ نہیں بنا رہا ہے جبکہ ایران کہتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر توانائی سے متعلق ہے۔

اسی بارے میں