’اردن کے کیمپوں میں شامی پناہ گزین فوری امداد کے طالب‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق شام کا بحران پانچویں برس میں داخل ہو رہا ہے اور متعدد پناہ گزین باہر سے آنے والی امداد پر بہت زیادہ انحصار کر رہے ہیں

اقوامِ متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین (یو این آیچ آر سی) نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اردن کے کیمپوں میں رہنے والے چھ لاکھ 20 ہزار شامی پناہ گّزینوں کے ’مایوس کن حالاتِ زندگی‘ کے خاتمے کے لیے مدد کرے۔

اقوامِ محتدہ کی جانب سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کیمپوں میں رہنے والے ہر چھ میں سے ایک پناہ گزین بہت زیادہ غربت کا شکار ہے۔

اقوامِ متحدہ نے متنبہ کیا ہے کہ اگر بین الاقوامی برداری نے ان شامی پناہ گزینوں کی مدد نہ کی تو ان کے حالات اور زیادہ خراب ہو جائیں گے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے یہ شامی پناہ گزین باہر سے آنے والی امداد پر انحصار کیے ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے سربراہ انتونیو گوٹیرش نے کہا ہے کہ انتہائی سرد موسم اور بجلی کی کمی نے ان شامی پناہ گزینوں کی مشکلات میں اور اضافہ کر دیا ہے۔

انتونیو گوٹیرش ان شامی پناہ گزینوں کے حالات میں بہتری لانے کے لیے اردن کے حکام کے علاوہ دیگر امدادی اداروں سے بھی ملاقات کریں گے۔

اقوامِ متحدہ کی یہ رپورٹ اردن سے باہر قائم کیمپوں میں رہنے والے 1,50,000 شامی پناہ گزینوں سے حاصل کردہ اعدادو شمار پر مشتمل ہے۔

رپورٹ کے مطابق اردن کے کیمپوں میں رہنے والے شامی پناہ گزینوں کی تین چوتھائی غربت کی انتہائی لکیر سے نیچے زندگی گذار رہی ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق شام کا بحران پانچویں برس میں داخل ہو رہا ہے اور متعدد پناہ گزین باہر سے آنے والی امداد پر بہت زیادہ انحصار کر رہے ہیں۔

یو این آیچ سی آر کا کہنا ہے کہ وہ اردن کے کیمپوں میں رہنے والے 21,000 شامی خاندانوں کو ہر ماہ نقد رقم مہیا کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی کی وجہ سے لبنان میں دس لاکھ سے زائد شامی شہریوں نے پناہ حاصل کر رکھی ہے تاہم ایک سینیئر لبنانی وزیر نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ لبنان میں ’مزید شامیوں کو پناہ دینے کی گنجائش نہیں ہے۔‘

لبنان کے وزیرِ داخلہ نوہاد مشنوک نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے پاس پہلے ہی بہت زیادہ پناہ گزین ہیں اور مزید پناہ گزینوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔

اسی بارے میں