’اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے کی اجازت نہیں دیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption ڈیوڈ کیمرون امریکہ کا دو روزہ دورہ کرنے والے ہیں جو ممکنہ طور پر بطور وزیراعظم ان کا آخری دورۂ امریکہ ہوگا

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور امریکی صدر براک اوباما نے دہشت گردی کے ’مسخ شدہ نظریات‘ کو شکست دینے کے لیے مل کر کام کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

یہ بات دونوں رہنماؤں کی جانب سے مشترکہ طور پر تحریر کردہ مضمون میں کہی گئی ہے جو جمعرات کو ٹائمز اخبار میں شائع ہوا ہے۔

پیرس میں شدت پسندوں کے حملوں میں 17 افراد کی ہلاکت کے بعد شائع ہونے والے اس مضمون میں دونوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ کسی کو بھی’اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

انھوں نے کہا ہے کہ ’ہم ان عناصر کے خلاف ساتھ کھڑے رہیں گے جو ہماری اقدار اور زندگی گزارنے کے طریقے کے لیے خطرہ بن رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں کا کہنا ہے کہ فرانسیسی رسالے چارلی ایبڈو اور کوشر مارکیٹ پر حملوں کے خلاف دنیا نے مل کر آواز بلند کی ہے: ’جب پیرس میں اس آزادی پر حملہ ہوا جسے ہم عزیز رکھتے ہیں تو دنیا نے یک زبان ہو کر اس کا جواب دیا۔‘

کیمرون اور اوباما کا کہنا ہے کہ ’ہم ان وحشی قاتلوں اور ان کے مسخ شدہ نظریات کو شکست دیں گے جو معصوم افراد کے قتل کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’جو لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی کو تشدد سے دبا سکتے ہیں ہم نے اپنے فرانسیسی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ان واضح کر دیا ہے کہ ہماری آوازیں بلند سے بلند تر ہوتی جائیں گی۔‘

خیال رہے کہ چارلی ایبڈو پر حملے اور تشدد کے نتیجے میں 17 افراد کی ہلاکتوں کے خلاف فرانسیسی عوام نے گذشتہ اتوار کو ملک بھر میں اجتماعات منعقد کیے تھے جن میں 35 لاکھ سے زیادہ افراد شریک ہوئے تھے۔

دارالحکومت پیرس میں شہر کی تاریخ کا سب سے بڑے اجتماع ہوا تھا جس میں 16 لاکھ افراد شریک تھے۔ اس موقع پر فرانسیسی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے 40 ممالک کے سربراہان بھی اس ’یونیٹی مارچ‘ میں شریک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں