نائجر میں چارلی ایبڈو کے خلاف احتجاج میں چار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مظاہرین نے چرچوں کو آگ لگا دی اور عیسائیوں کی دکانوں پر ہلہ بول دیا

حکام نے کہا ہے کہ افریقی ملک نائجر کے دوسرے بڑے شہر زیندر میں فرانسیسی رسالے چارلی ایبڈو کے خلاف پرتشدد احتجاجی مظاہروں میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔

اس دوران کئی چرچ ، فرانس کا ثقافتی مرکز اور دوسری کئی عمارتیں نذرِ آتش کر دی گئیں۔

جمعے کے روز مسلم دنیا کے کئی ملکوں میں پیغمبرِ اسلام کے خاکے کی اشاعت کے خلاف مظاہرے ہوئے۔

پاکستان میں چارلی ایبڈو کے خلاف مظاہرے

گذشتہ ہفتے پیرس میں چارلی ایبڈو کے دفتر پر حملے میں 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ حملہ ان مسلمان عسکریت پسندوں نے کیا تھا جو رسالے میں پیغمبرِ اسلام کے خاکے کی اشاعت پر برہم تھے۔

چارلی ایبڈو کے تازہ شمارے کے سرورق پر ایک بار پھر پیغمبرِ اسلام کا خاکہ شائع کیا گیا ہے۔

جمعے کو پاکستان، سوڈان اور الجزائر میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

ایک پولیس اہلکار نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ زیندر میں جمعے کی نماز کے بعد رسالے کے خلاف ہونے والا احتجاجی مظاہرہ پرتشدد رنگ اختیار کر گیا جس کے دوران ایک پولیس اہلکار اور تین شہری ہلاک ہو گئے۔

انھوں نے کہا: ’بعض مظاہرین تیرکمانوں اور ڈنڈوں سے مسلح تھے۔ بعض جگہوں پر ان کا پولیس کے ساتھ سخت تصادم ہوا۔‘

اے ایف پی نے ایک وزیر کے حوالے سے بتایا ہے کہ درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

مقامی شہریوں نے روئٹرز کو بتایا کہ مظاہرین نے چرچوں کو آگ لگا دی اور عیسائیوں کی دکانوں پر ہلہ بول دیا۔

ایک مقامی دکان دار نے ٹیلی فون پر بتایا: ’مظاہرین مقامی ہوسا زبان میں چلا رہے تھے: چارلی شیطان ہے، چارلی کے حامی جہنم میں جائیں۔‘

فرانس کا ثقافتی مرکز بھی حملوں کی زد میں آیا۔

مرکز کے ڈائریکٹر کاؤمی باوا نے کہا کہ 50 کے لگ بھگ مشتعل لوگوں کے ہجوم نے عمارت کا دروازہ توڑ دیا اور کیفے، کتب خانے اور دفاتر کو آگ لگا دی۔

اسی بارے میں