سعودی بلاگر کی سزا پر ’نظرِثانی‘ کی جائے گی

تصویر کے کاپی رائٹ Badawi Familly
Image caption بلاگر رائف بداوی اپنے تین بچوں کے ساتھ

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ سعودی شاہ کے دفتر نے سعودی بلاگر رائف بداوی کو ملنے والی ایک ہزار کوڑوں کی سزا نظرِ ثانی کے لیے سپریم کورٹ کو بھیج دی ہے۔

بداوی کی اہلیہ نے کہا ہے کہ اس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ ان کے شوہر کی سزا ختم کر دی جائے گی۔

بداوی کو گذشتہ جمعے کوڑے مارے گئے تھے تاہم اس ہفتے طبی بنیادوں پر انھیں دی جانے والی کوڑوں کی سزا ملتوی کر دی گئی تھی۔ سزا کے مطابق ان کو ہر ہفتے 50 کوڑے مارے جانے ہیں۔

بداوی کو کوڑوں کی سزا اور دس سالہ قید کے بعد دنیا بھر میں احتجاج کیا گیا تھا۔

بداوی نے سعودی عرب میں لبرل سعودی نیٹ ورک کے نام سے ایک آن لائن فورم تشکیل دیا تھا جس کا مقصد سعودی عرب میں مذہبی اور سیاسی معاملات پر بات چیت کی حوصلہ افزائی کرنا تھا۔

بداوی کی اہلیہ انصاف حیدر کا کہنا ہے کہ ان کے لیے اپنے خاوند کی دس سالہ جدائی برداشت کرنے کا تصور بہت مشکل ہے۔ ان کے بچے چھوٹے ہیں اور انھوں نے اپنے باپ کو دو سال سے نہیں دیکھا کیوں کہ وہ گذشتہ دو سال سال سے جیل میں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بداوی کی اہلیہ انصاف حیدر کہتی ہیں کہ ان کے بچوں کے لیے اپنے باپ کی جدائی برداشت کرنا بہت مشکل ہے۔ انصاف کینیڈا منتقل ہو گئی ہیں

تاہم اب جب کہ مقدمہ سپریم کورٹ کے پاس جا رہا ہے، انصاف کو امید ہے کہ ان کے پاس اپیل کا موقع ہے۔

انھوں نے بی بی سی کی بیکی کیلی کو فون پر بتایا کہ رائف کے لیے بھی اپنے خاندان سے جدائی بہت مشکل ہے۔

بداوی نے اپنی بیوی کو بتایا کہ وہ گذشتہ ہفتے کوڑے کھانے کے دوران اپنے آپ کو مضبوط ثابت کرنا چاہتے تھے۔

گذشتہ ہفتے جدہ کی ایک مسجد کے باہر بداوی کو سرِ عام کوڑے مارے گئے، جہاں ایک ہجوم تماشا دیکھنے کے لیے اکٹھا ہو گیا تھا۔

امریکہ، کینیڈا، جرمنی اور ناروے سمیت کئی ملکوں نے اس سزا پر تنقید کی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ حکام نے بداوی کو اس ہفتے اس لیے کوڑے نہیں مارے گئے کہ ان کے زخم ابھی مندمل نہیں ہوئے تھے۔

انصاف حیدر کا کہنا ہے کہ وہ 2012 میں اپنے شوہر پر قاتلانہ حملے کے بعداپنے تین بچوں کے ساتھ کینیڈا منتقل ہو گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption رائف بداوی کو کوڑوں کی سزا ملنے کے بعد دنیا بھر میں ان کے حق میں مظاہرے ہوئے تھے

اسی بارے میں