یورپ میں ہائی الرٹ، فرانس، بیلجیئم اور یونان میں گرفتاریاں

تصویر کے کاپی رائٹ n
Image caption بیلجیئم میں یہودی سکولوں اور حکومتی عمارات کے باہر بھی مسلح فوجی تعینات ہیں

یورپ میں مشتبہ اسلام پسند جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں کےسلسلے میں یونان کی پولیس نے بیلجیئم میں دہشت گردی کے ایک مشتبہ منصوبے کے حوالے سے کئی افراد کو حراست میں لیا ہے۔

یونان میں گرفتار ہونے والے افراد میں سے ایک کا مبینہ طور بیلجیئم میں دہشت گردوں کے گروہ سے رابط تھا۔

بیلجیئم میں جمعرات کی شب انسدادِ دہشت گردی کی کارروائی میں دو افراد کی ہلاکت کے بعد جمعے کو پانچ افراد کو دہشت گردی کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔

پیرس میں شدت پسندوں کے حملوں میں 17 افراد کی ہلاکت کے یورپ کے کئی ممالک نے ہائی الرٹ جاری کر رکھا ہے۔

فرانس کے علاوہ بیلجیئم، جرمنی اور یونان میں کم از کم 25 افراد حراست میں لیے گئے ہیں۔

بیلجیئم میں مبینہ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے بعد ایسی جگہوں پر فوج تعینات کر دی گئی ہے جو ممکنہ طور پر دہشت گردوں کا نشانہ بن سکتی ہیں۔

بیلجییئم کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں بندوقیں، دھماکہ خیز مواد، پولیس کا یونیفارم اور بڑی تعداد میں رقوم قبضے میں لی ہیں۔ پراسکیوٹر کا الزام ہے کہ یہ گروہ پولیس افسران کو ہلاک کرنے کا منصوبہ رکھتا تھا۔

فرانس کے بعد بیلجیئم نے بھی سینیچر کو ملک میں پولیس کے ساتھ فوج کو تعینات کرنا شروع کردیا ہے جبکہ برطانیہ میں بھی پولیس کو دہشت گردانہ حملے کے خدشے کے تحت ہوشیار کر دیا گيا ہے۔

بیلجیئم کے وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق دارالحکومت برسلز اور ہیروں کی تراش خراش کی صنعت کے لیے مشہور شہر اینٹورپ سمیت متعدد شہروں میں 300 فوجیوں کو اہم مقامات کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

ملک میں یہودی سکولوں اور حکومتی عمارات کے باہر بھی مسلح فوجی تعینات ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلح فوجیوں کی بنیادی ذمہ داری مخصوص مقامات کا سروے کرنا ہوگی۔

بیلجیئم کی وزارتِ دفاع کے مطابق فوجیوں کے علاوہ 150 پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں اور ان کی تعداد آنے والے ہفتے میں دوگنی ہو جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption بیلجیئم کی وزارتِ دفاع کے مطابق فوجیوں کے علاوہ 150 پولیس اہلکار بھی تعینات کیے گئے ہیں

وزارت کا کہنا ہے کہ ملک میں خطرے کی سطح درجہ تین پر رہے گی جو دوسرا بلند ترین درجہ ہے اور اس سطح کا جائزہ ایک ہفتے بعد لیا جائے گا۔

عدالت کے ایک اہلکار ایرک وان ڈر سیپٹ نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا: ’تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ یہ لوگ کئی پولیس اہلکاروں کو مارنے کا ارادہ رکھتے تھے۔‘

انھوں نے بتایا ’مجموعی طور پر 13 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے لیکن صرف پانچ کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔‘

اس کے علاوہ بیلجیئم فرانس میں پکڑے جانے والے دو مشتبہ افراد کو اپنی تحویل میں لینا چاہتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption فرانس میں تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار پولیس اور فوجی اہلکار تعینات ہیں۔

جمعے کو بیلجیئن حکام نے دہشت گردوں سے نمٹنے کے نئے طریقوں کا اعلان کیا ہے۔

ان میں دہشت گردوں کے بیرون سفر کو جرم قرار دیے جانے کے علاوہ دوہری شہریت کے حامل افراد کی شہریت کا دہشت گردی کا خطرہ پائے جانے پر منسوخ کیا جانا وغیرہ شامل ہیں۔

یورپی ممالک کے حکام اپنے ان شہریوں کے بارے میں شدید خدشات کا شکار ہیں جو شام اور عراق میں جہاد میں حصہ لینے گئے تھے۔

بیلجیئم میں حکام کا کہنا ہے کہ اس کے قریباً 350 شہری شام اور عراق گئے تھے جن میں سے 100 واپس آ چکے ہیں اور ملک کے خفیہ ادارے ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔

اگرچہ بیلجیئم میں دہشت گردی کے منصوبے اور فرانس میں ہونے والے حملے کے درمیان کوئی تعلق نہیں ملا ہے لیکن فرانسیسی وزیراعظم مینوئل ولاس نے جمعے کو کہا کہ دونوں ممالک کو ایک ہی طرح کے خطرات لاحق ہیں۔

انھوں نے کہا ’ان میں جو تعلق ہے وہ ہمارے اقدار پر حملہ کرنے کا ہے۔‘

فرانس میں اس وقت پورے یورپ میں سب سے سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں اور ملک میں تقریباً ایک لاکھ 20 ہزار پولیس اور فوجی اہلکار تعینات ہیں۔

پیرس میں گذشت ایک ہفتے میں 12 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا۔

آئی ٹیلے نے رپورٹ کیا ہے کہ پولیس نے پانچ شہروں میں چھاپے مارے اور جو لوگ حراست میں لیے گئے ہیں ان سے اب ممکنہ لاجسٹک تعاون جیسے ہتھیار، گاڑیاں وغیرہ فراہم کرنے کے بارے میں سوال کیے جا ر ہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ فرانس اور بیلجیئم میں ہونے والے واقعات ان کے یورپی پڑوسیوں پر اہم اثرات رکھتے ہیں۔

سپین نے فرانس میں حملے سے چند دن قبل امیدی کولیبلے کی میڈرڈ آمد کے بارے میں جانچ کا آغاز کیا ہے جبکہ جرمنی میں پولیس نے دو لوگوں کو گرفتار کیا ہے اور 11 مقامات پر چھاپے مارے ہیں جس میں 250 آفیسر شامل تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ لوگ شام میں ایک پر تشدد حملے کی تیاری کر رہے تھے لیکن جرمنی میں ’حملے کا کوئی عندیہ‘ نہیں ملا ہے۔

اسی بارے میں