شام میں اسرائیلی کارروائی، حزب اللہ کے چھ ارکان ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جہاد مغنیہ کے والد عماد مغنیہ دمشق میں ایک بم حملے میں مارے گئے تھے۔

لبنانی عسکریت پسند تنظیم حزب اللہ نے شامی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے چھ ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

یہ کارروائی اتوار کوگولان کی پہاڑیوں میں کی گئی اور ہلاک ہونے والوں میں حزب اللہ کے 2008 میں ہلاک کیے جانے والے مشہور کمانڈر عماد مغنیہ کا بیٹا جہاد مغینہ بھی شامل ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان کے علاوہ تنظیم کے ایک موجودہ کمانڈر محمد عیسیٰ اور ایرانی پاسدارانِ انقلاب کا ایک رکن بھی اس حملے میں مارے جانے والوں میں شامل ہیں۔

حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار پر نشر والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ جنگجو قوینترا نامی صوبے میں علاقے کی دیکھ بھال کے ایک مشن پر تھے جب وہ اسرائیلی حملے میں ہلاک ہوئے۔

اسرائیل نے شام کے اندر کارروائی پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے البتہ ایک ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیلی ہیلی کاپٹر کے ایک حملے میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

یہ واقعہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی طرف سے اسرائیل کو دی جانے والی اس دھمکی کے چند دن پیش آیا ہے جس میں انھوں نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ اس نے شام کے اندر فضائی حملے بند نہ کیے تو حزب اللہ اسرائیل کو نشانہ بنا سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حسن نصر اللہ نے حال ہی میں اپنی صفوں میں ایک اسرائیلی جاسوس کی موجودگی کی تصدیق بھی کی تھی

حسن نصراللہ نے کہا تھا کہ ان کی تنظیم اسرائیل کے مقابلے کے لیے ہتھیار اکھٹے کر رہی ہے جن میں دور تک مار کرنے والے ایسے میزائل بھی ہیں جو اسرائیل کے ہر حصے کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔

اتوار کے حملے کے بعد المنار ٹی وی پر نشر ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’اسرائیل آگ سے کھیل رہا ہے جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔‘

حزب اللہ کے جنگجو شامی صدر بشار الاسد کے حامی ہیں اور وہاں چار برس سے جاری خانہ جنگی میں حکومتی افواج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔

شام میں لڑائی شروع ہونے کے بعد اسرائیل نے کئی بار شامی حدود کے اندر فضائی حملے کیے ہیں اور اس کا موقف رہا ہے کہ وہ شامی اسلحے کو حزب اللہ کے قبضے میں جانے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تازہ حملوں میں ہلاک ہونے والے جہاد مغنیہ کے والد عماد مغنیہ دمشق میں ایک بم حملے میں مارے گئے تھے۔ حزب اللہ نے ان کی ہلاکت کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا۔

عماد مغنیہ 1980 کی دہائی میں لبنان میں مغربی ممالک کے شہریوں کے اغوا کی وارداتوں کے منصوبہ ساز سمجھے جاتے تھے۔

اسی بارے میں