جمہوریہ وسطی افریقہ میں کوکا کولا سے سستا ہینڈ گرنیڈ ہے: رپورٹ

بینگوئی
Image caption جمہوریہ وسطی افریقہ میں حالیہ برسوں میں مسلمان اور عیسائی باغی گروہوں میں خونی تصادم کے بعد سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے ہیں

جمہوریہ وسطی افریقہ میں خانہ جنگی کے بارے میں تازہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ کس طرح سے ہتھیاروں کی عالمی صنعت نے وہاں باغی فورسز کو غیرقانونی طور پر ہتھیار فراہم کیے ہیں۔

تحقیقات کے ایک نگراں کا کہنا ہے کہ وہاں گرنیڈ یا دستی بم کوکا کولا کی بوتل سے بھی سستے داموں دستیاب ہے۔

یہ تحقیقات برطانیہ کے کنفلکٹ آرمامینٹ ریسرچ نامی ادارے نے کرائی ہیں جو یورپی یونین کے لیے کام کرتا ہے۔

تحقیقات کے ایک نگراں مائیک لوئس نے کہا کہ جمہوریہ وسطی افریقہ کے دارالحکومت بینگوئی میں گرنیڈ یا دستی بموں کی اتنی بہتات ہے کہ آپ انھیں کوکا کولا کے ایک کین سے بھی کم قیمت میں خرید سکتے ہیں۔

’یہ چینی ساختہ ٹائپ 82-2 ہینڈ گرینڈ ہیں اور یہ بینگوئی میں کوکا کولا کے ایک کین سے بھی کم قیمت میں خریدے جاسکتے ہیں۔ ہم نے خانہ جنگی کے تمام فریقوں کے پاس یہ بم بڑی مقدار میں کریٹوں میں دیکھے ہیں اور کریٹوں پر درج عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ یہ بنیادی طور پر نیپال کے لیے بنائے گئے تھے۔ ہم اب بھی واقعی نہیں جانتے کہ کس طرح سے اور کیا یہ بم کبھی نیپال پہنچے تھے یا نہیں یا کہ آیا یہ بنے نیپال کے لیے تھے اور انہیں کہیں اور بھیج دیا گیا۔‘

رپورٹ کے مطابق جمہوریہ وسطی افریقہ میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے زیرگردش ہتھیار اور دوسرا فوجی سازوسامان یا تو وہ ہے جو مقامی طور پر لوٹا گیا یا پھر سرحد پار سے آیا ہے۔ ان میں یورپی کمپنیوں کا فراہم کردہ سازوسامان بھی ہے جو کہ بنیادی طور پر سابق صدر بُوزیزی کے دور حکومت میں سرکاری فورسز کے لیے یا خطے کے دوسرے ملکوں کے لیے بھیجا گیا تھا۔

مائیک لوئس نے کہا کہ جمہوریہ وسطی افریقہ میں ہتھیاروں کی زیادہ تر کھیپ کی سمگلنگ چھوٹے پیمانے پر ہوئی ہے اور اسے روکنا مشکل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمہوریہ وسطی افریقہ میں تشدد کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے وہاں امن دستے تعینات کر رکھے ہیں

’جمہوریہ وسطی افریقہ میں زمین پر ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں اسکے محرکات بہت مختلف ہیں۔ ہم خطے کے اندر سرحدوں کے آر پار ہتھیاروں کی نقل و حمل کی بات کر رہے ہیں۔ ہم بہت چھوٹے پیمانے پر چیزوں کی سمگلنگ کی بات کر رہے ہیں۔ اس کا ملک کے اندر تشدد پر بڑا گہرا اثر ہے مگر یہ ایسی چیزیں نہیں کہ جو بڑی برآمدات ہوں اور جنھیں ہتھیاروں کے بڑے برآمدکنندگان کنٹرول کررہے ہوں۔‘

تحقیقاتی رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ خطے میں ہتھیار کس طرح سے سمگل کیے جارہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سوڈان کو دیے جانے والے چین اور ایران کے تیار کردہ ہتھیار سوڈان میں ہی دوبارہ پیک ہوتے ہیں اور جمہوریہ وسطی افریقہ سمیت دوسرے ملکوں میں برآمد کردیے جاتے ہیں جو کہ چین کے ساتھ سوڈان کے اس معاہدے کی خلاف ورزی ہے جس کہ تحت وہ یہ ہتھیار خود ہی استعمال کرے گا۔ جبکہ یورپ کی تیار کردہ شاٹ گن بظاہر پڑوسی ملکوں سے جمہوریہ وسطی افریقہ پہنچ رہی ہے۔

جمہوریہ وسطی افریقہ میں حالیہ برسوں میں مسلمان اور عیسائی باغی گروہوں میں خونی تصادم کے بعد سینکڑوں لوگ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دونوں طرف کے لوگوں نے بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی ہے۔

تشدد کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ اور یورپی یونین نے وہاں امن دستے تعینات کر رکھے ہیں۔ جمہوریہ وسطی افریقہ جو کہ پہلے فرانس کی نوآبادی تھا زرعی اور معدنی دولت سے مالا مال ہے جن میں ہیرے بھی شامل ہیں مگر یہ دنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں گنا جاتا ہے۔

اسی بارے میں