مصر میں غیر شادی شدہ خواتین کے لیے مہم

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سماح کے مطابق ان کے اپنے خاندان سے بھی شادی میں تاخیر کے معاملے پر اکثر جھگڑا ہوتا ہے

مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایک خاتون ملک میں غیر شادی شدہ خواتین کے بارے میں پائے جانے والے منفی تاثرات کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

27 سالہ سماح حامدی اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے دلھن کے لباس میں عوامی مقامات پر جاتی ہیں۔

مصر کی نیوز ویب سائٹ احرم آن لائن کے مطابق ایک سال کے دوران سماح کی دارالحکومت کے مختلف عوامی مقامات پر شادی کے لباس میں تصاویر سامنے آئی ہیں۔

سماح حامدی اندرونی آرائش کی ڈیزائنر ہیں اور اس وقت پرفارمنگ آرٹس میں ماسٹرز کر رہی ہیں۔

سماح کے مطابق ان کی اپنے خاندان سے بھی شادی میں تاخیر پر اکثر جھگڑا ہوتا ہے۔

’ آپ کتنی بھی مہذب ہوں، یہ بات نہیں دیکھی جاتی، بس یہ کہ آپ کو اس مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ شادی کریں اور خاندان بنائیں۔‘

سماح کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر موجود صفحے پر درجنوں تعریفی بیانات پوسٹ کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption سماح کی ایک سال کے دوان مختلف مقامات پر کھینچی گئی تصاویر فیس بک پر جاری کی گئی ہیں

ان میں ایک شخص مصطفیٰ کے مطابق:’ شاباش، یہ ایک بیمار معاشرہ ہے۔‘ ایک دوسرے شخص موشارا نے لکھا ہے کہ ’اگر جوانی میں ایک شخص کے بچے نہیں ہیں تو بڑھاپے میں کوئی اس کی دیکھ بھال نہیں کرے گا۔‘

سماح کی شادی کے لباس کی ایک ویڈیو نے گذشتہ سال نومبر میں ایک ایوارڈ بھی جیتا تھا لیکن ان کی اس مہم کا خود ان کے خاندان پر کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔

سماح کے مطابق ان کی والدہ اب بھی انھیں بڑی عمر کی غیر شادی شدہ خاتون کہتی ہیں۔

مصر میں سال 2011 کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بہت سے مصری شہری 30 سال تک شادی نہیں کرتے۔

ان اعداد و شمار کے مطابق ملک میں 90 لاکھ افراد ایسے ہیں جنھوں نے 33 سال تک پہنچنے کے باوجود شادی نہیں کی اور ان میں نصف سے زائد تعداد خواتین کی ہے۔

اسی بارے میں